1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پناہ کی قانونی کارروائی افريقہ ميں، يورپ جانے کی ضرورت نہيں

يورپی اور افريقی رہنماؤں نے فرانس ميں منعقدہ ايک سربراہی اجلاس ميں پناہ گزينوں کی افريقہ ميں اسکريننگ کے منصوبوں کی حمايت کی ہے تاکہ وہ پناہ کی تلاش ميں بحيرہ روم کا خطرناک راستہ اختيار نہ کريں۔

فرانسيسی صدر ایمانوئل ماکروں نے تجويز پيش کی ہے کہ افريقی ممالک نائجر اور چاڈ ميں ايسے محفوظ علاقے قائم کيے جائيں، جہاں پناہ کے متلاشی افراد کی درخواستوں کا جائزہ ليا جائے۔ پناہ کی ان درخواستوں کے جائزے کا کام اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين (UNHCR) کے رضاکار کريں گے۔ ماکروں نے يہ تجويز گزشتہ روز فرانسيسی دارالحکومت پيرس ميں منعقدہ يورپی و افريقی رہنماؤں کی سمٹ کے موقع پر دی۔ سات ملکوں کی سمٹ کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلاميے ميں بتايا گيا ہے کہ اس سلسلے ميں نائجر اور چاڈ کی طرف ايک مشن روانہ کيا جائے گا۔ رہنماؤں نے لائحہ عمل پر مبنی ايک روڈ ميپ پر بھی دستخط کيے۔

سوڈان، اريٹريا، ايتھوپيا اور ديگر افريقی رياستوں ميں مسلح تنازعات اور ديگر مسائل سے فرار کی کوشش ميں 2014ء سن سے لے کر اب تک چودہ ہزار افراد بحيرہ روم ميں لقمہ اجل بن چکے ہيں۔ اسی دوران بلقان رياستوں کے راستے گزرنے والے روٹ کی بندش کے سبب ہزارہا تارکين وطن بحيرہ روم کے راستے اٹلی پہنچ رہے ہيں۔ يورپی رہنما اس سلسلے کو روکنا چاہتے ہيں۔

پير کو منعقدہ اجلاس ميں شامل ساتوں رکن ممالک نے ليبيا ميں سياسی عدم استحکام کو مہاجرين کی يورپ کی جانب غير قانونی ہجرت کے نہ رکنے کی ايک بنيادی وجہ قرار ديا۔ چاڈ کے صدر ادريس ديبی کے بقول جب تک ليبيا ميں استحکام پيدا نہيں ہوتا، مہاجرين کے بحران کا مسئلہ ختم نہيں ہو گا۔ ليبيا ميں سابق آمر معمر قذافی کی سن 2011 ميں ہلاکت کے بعد يہ ملک سياسی انتشار کا شکار ہے۔ وہاں دو حکومتيں  اقتدار کی جنگ لڑ رہی ہيں جبکہ کئی مسلح مليشيا بھی سرگرم ہيں۔

اقوام متحدہ ميں مہاجرين سے متعلق امور کے سربراہ فيليپو گراندی نے پير کو ہونے والی پيش رفت کو سراہا تاہم ان کا يہ بھی کہنا تھا کہ صرف مہاجرين کی آمد محدود کرنے کے اقدامات سے يہ مسئلہ ختم نہيں ہو گا۔ گراندی نے کہا، ’’کسی بھی با معنی حکمت عملی ميں ان ممالک ميں قيام امن کی کوششيں لازمی ہونی چاہئيں، جہاں مسلح تنازعات جاری ہيں۔‘‘

DW.COM