1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’پناہ کی درخواست منظور، رشوت ديں اور مراعات حاصل کريں‘

ايک جرمن نشرياتی ادارے کی ايک تحقيقاتی رپورٹ ميں يہ انکشاف کيا گيا ہے کہ سياسی پناہ کی درخواست منظور ہو جانے کے بعد مراعات کی وصولی کے عمل کو تيز بنانے کے ليے مہاجرين رشوت کے ذريعے ملاقات کا وقت جلد حاصل کر لیتے ہيں۔

جرمنی ميں سياسی پناہ کی درخواست منظور ہو جانے کے بعد پناہ گزينوں کو دفتر خارجہ کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اسی دفتر سے انہيں ماہانہ مالی امداد کے علاوہ رہائش اور ديگر سہوليات فراہم کی جاتی ہيں۔ ليکن پناہ گزينوں کی بڑی تعداد کے سبب متعلقہ اہلکاروں تک رسائی حاصل کرنے ميں کئی کئی ماہ لگ جاتے ہيں۔ جرمن نشرياتی ادارے ’وے ڈے آر‘ (WDR) کے دو صحافيوں نے ابھی حال ہی ميں ايک سروے کيا، جس ميں يہ سامنے آيا کہ دفتر خارجہ کے ملازمين کے ساتھ ملاقات جلد ممکن ہے ليکن اس کے ليے ’بليک مارکيٹ‘ يا غير قانونی طريقہ کار اختيار کرنا پڑتا ہے۔

اس سلسلے ميں تفتيش کرنے والی ايک صحافی نے اپنا فرضی نام لينا بتاتے ہوئے کہا، ’’جرمن صوبے ايسن ميں کوئی شخص رقوم کے عوض مہاجرين کو ملاقات کا وقت جلد دلوا ديتا ہے۔‘‘ پيغامات بھيجنے ارسال کرنے والے پروگرام واٹس ايپ کو بروئے کار لاتے ہوئے مہاجرين ايک شخص سے رابطہ کر سکتے ہيں، جو ملاقات کے وقت باقاعدہ طور پر ’فروخت‘ کرتا ہے۔ يہ طريقہ کار اور متعلقہ شخص کا نمبر سب سے زيادہ عرب ممالک سے آنے والے مہاجرين استعمال کرتے ہيں۔

مہاجرين کو معلومات فراہم کرنے والی ويب سائٹ ’انفو مائگرنٹس‘ کو ايک مخبرکا تحريری بيان موصول ہوا، جس ميں رياست ايسن ميں ’بليک مارکيٹ‘ کی موجودگی کا بتايا گيا ہے۔ در اصل دفتر خارجہ سے ايک خاتون اہلکار ٹيلی فون کال کے ذريعے باقاعدہ رقم کے عوض ملاقات کے وقت فروخت کرتی ہيں۔

جرمن نشرياتی ادارے ’ڈبليو ڈی آر‘ کو متعلقہ خاتون کا نمبر ملا اور پھر ان سے رابطہ کيا گيا۔ ٹيلی فون کرنے والے سے دريافت کيا گيا کہ اسے ملاقات کا وقت کس ليے چاہيے، اس کا نام اور پتہ کيا ہے وغيرہ۔ علاوہ ازيں اس سے کہا گيا کہ ملاقات کا وقت ملنے کے ليے پيشگی ادائيگی درکار ہے، جسے ايک ميٹرو اسٹيشن پر پہنچانا ہو گا۔ اگلے دن رقم ٹرانسفر ہونے کے فوری بعد متعلقہ شخص کو انٹرويو کا نمبر مل گيا۔ لينا کے بقول اس طريقے سے انٹرويو کا وقت کافی تيزی سے مل گيا۔

ايسن ميں انتظامی امور کے سربراہ کرسٹيان کرمبرگ کا کہنا ہے کہ بہت سے معاملات تيزی کے ساتھ نہيں نمٹائے جا سکتے۔ ’’فوری طور پر ہمارے دفاتر ميں عملہ بڑھانا بھی ممکن نہيں، جس سے لوگوں کو ملاقات کے وقت جلد ديے جا سکيں۔‘‘

رياست ايسن کے حکام  ’ڈبليو ڈی آر‘ کے صحافيوں کی رپورٹ پر حيرت زدہ ہيں اور اس معاملے کو فوری طور پر پبلک پراسيکيوٹر تک پہنچايا گيا۔ اس سلسلے ميں تفتيش جاری ہے۔

ویڈیو دیکھیے 04:35

کيا پناہ گزين جرمن سياست ميں بھی کردار ادا کر سکتے ہيں؟

Audios and videos on the topic