1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پناہی کی رہائی کے لئے شپیل برگ بھی کوشاں

ہالی وُڈ کے معروف ہدایت کار اسٹیون شپیل برگ اور مارٹن اسکورسیسی نے ایرانی ڈائریکٹر جعفر پناہی کی رہائی کے لئے ایک درخواست پر دستخط کئے ہیں۔ یوں پناہی کی رہائی کے لئے سرگرم ہالی وُڈ کی شخصیات کا گروپ مزید مضبوط ہو گیا ہے۔

default

ہدایت کار اسٹیون شپیل برگ

Offside iranischer Regisseur Jafar Panahi Berlinale 2006 ausgezeichnet mit dem Silbernen Bären

ایرانی ڈائریکٹر جعفر پناہی

جعفر پناہی کی رہائی کی اس پٹیشن پر ہالی وُڈ کے اداکار رابرٹ ڈی نیرو، رابرٹ ریڈفورڈ، فرانسس فورڈ کاپولا، جوئیل کوین، ایتھن کوین، آنگ لی، مائیکل مور اور اولیور اسٹون پہلے ہی دستخط کر چکے ہیں۔

اس درخواست میں تہران حکام پر پناہی کی رہائی کے لئے زور دیا گیا ہے۔ انہیں یکم مارچ کو سیکیورٹی فورسز نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لے لیا تھا۔

یہ پیٹیشن فلموں کی خبریں جاری کرنے والی متعدد ویب سائٹس پر جاری کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے: ’ہم اپنے ساتھی فلمساز کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، انہیں حراست میں لئے جانے کی مذمت کرتے ہیں، اور ایرانی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ پناہی کو فوری طور پر رہا کرے۔‘

اس درخواست میں مزید کہا گیا ہے: ’بین الاقوامی فلمی صنعت میں ایران نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے بیرونی دنیا میں ہماری طرح بے شمار لوگوں کے دلوں میں ایرانی عوام کے لئے قدر کا جذبہ پیدا کیا ہے۔ دنیا بھر کے فنکاروں کی طرح، ایران کے فلمسازوں کو بھی سسنر کئے جانے، دبائے جانے اور قید کرنے کے بجائے سراہا جانا چاہئے۔‘

Robert de Niro in Kap der Angst

ہالی وُڈ کے اداکار رابرٹ ڈی نیرو

انچاس سالہ پناہی نے اپنی فلموں میں معاشرے کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھا ہے اور انہیں اسی جرأت کے لئے جانا جاتا ہے۔ ان کی ایسی ہی ایک فلم ’دی سرکل‘ کو 2000ء میں وینس گولڈن لائن ایوارڈ دیا گیا تھا۔ 2006ء میں ان کی فلموں ’آف سائیڈ‘ اور ’کرمزن گولڈ‘ کو برلن فلم فیسٹیول میں سلور بیئر ایوارڈ بھی دیا گیا۔

رواں برس فروری میں ایرانی حکام نے پناہی کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی تھی، جس کے باعث وہ برلن فلم فیسٹیول میں بھی شرکت نہ کرسکے تھے۔ گزشتہ ماہ ایرانی وزیر ثقافت نے کہا تھا کہ پناہی کو حکومت مخالف فلم بنانے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: مقبول ملک

DW.COM