1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پشاور کے قریب دوہرے ٹرک بم دھماکے، چار افراد ہلاک

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخواہ میں کوہاٹ اور پشاور کو ملانے والی ایک سرنگ پر کئے گئے دوہرے ٹرک بم دھماکوں میں کم از کم چار افراد ہلاک جبکہ 19 زخمی ہو گئے ہیں۔

default

حکام کے مطابق یہ واقعہ جمعے کی رات پیش آیا جب دھماکہ خیز مواد سے بھرا ایک ٹرک اس سرنگ میں داخل ہوا اور دھماکے سے پھٹ گیا۔ حکام کے مطابق خودکش حملہ آور کا ہدف یقینی طور پر حال ہی میں عام ٹریفک کے لئے کھولی گئی یہ سرنگ تھی، جسے جاپان کے اشتراک سے تعمیر کیا گیا ہے۔

Selbstmordattentat in Pakistan

پہلے ٹرک میں 500 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا

کوہاٹ کے اعلیٰ انتظامی افسر شاہد اللہ نے خبررساں ادارے AFP کو بتایا کہ اس حملے کے ساتھ ہی دھماکہ خیز مواد سے بھرا ایک آئل ٹینکر بھی اس سرنگ کے باہر پاکستانی فوج اور نیم فوجی دستوں کی مشترکہ چیک پوسٹ کے قریب دھماکے سے تباہ کر دیا گیا۔ اس دوہرے خودکش ٹرک بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے تمام افراد عام شہری تھے۔ شاہد اللہ کے مطابق جس وقت چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا، اس وقت اس چیک پوسٹ میں کوئی سکیورٹی اہلکار موجود نہیں تھا۔

سکیورٹی حکام کے مطابق اس سرنگ کی تعمیر کے بعد سے ہی اس پر کسی دہشت گردانہ حملے کا خطرہ محسوس کیا جا رہا تھا اور اسی لئے ابتدا میں اسے صرف دن کے اوقات میں عام ٹریفک کے لئے کھولا گیا تھا تاہم ابھی حال ہی میں اسے 24 گھنٹے استعمال کی اجازت دی گئی تھی۔

Pakistan Selbstmordanschlag Wahl

حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں

’’چیک پوسٹ خالی تھی، تاہم چار شہری، جن میں دو خواتین شامل تھیں۔ اس حملے میں استعمال ہونے والے ٹرک کے پیچھے اپنے گاڑی میں تھے۔ یہ تمام افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ چودہ دیگر افراد زخمی ہوئے۔‘‘

واضح رہے کہ یہ سرنگ درہ آدم خیل میں واقع ہے اور یہ علاقہ اسلحے کی خرید و فروخت اور غیرقانونی اسلحہ سازی کے لئے مشہور ہے۔ ایک مقامی پولیس اہلکار نے بھی درہ آدم خیل کی اس سرنگ پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سرنگ کے اندر تباہ ہونے والے ٹرک میں 500 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔

حکام کے مطابق اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ اس سرنگ کو ہرقسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM