1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پشاور میں گردوارہ تو کھل گیا لیکن سکیورٹی کا کیا ہو گا؟

پشاور میں ایک گردوارے کو تہتر برس کی بندش کے بعد کھول دیا گیا ہے لیکن سکیورٹی کی صورتحال کےتناظر میں تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ تین سو سالہ پرانا یہ گردوارہ تقسیم ہند سے قبل چالیس کی دہائی میں بند کر دیا گیا تھا۔

پاکستانی صوبے خیبر پختنوخوا کے دارالحکومت پشاور کے مرکزی علاقے میں واقع یہ سکھ گردوارہ پاکستان کے قیام کے سے قبل ہی بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم مقامی سکھ کمیونٹی کی کوشش تھی کہ انہیں اس مقام پر عبادت کی اجازت مل جائے۔ حکام کی طرف سے اس عبادت گاہ کو مرمت کے بعد رواں ماہ ہی کھولا گیا ہے۔ تاہم مقامی آبادی کو خدشات ہیں کہ ملک کی موجودہ سکیورٹی کی مخدوش صورتحال کے تناظر میں سکھ کمیونٹی کی اس عبادت گاہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

DW.COM

گزشتہ جمعے کے دن ہی خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر میں وزیر برائے اقلیتی امور سردار سورن سنگھ کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس حملے کی وجہ سے پاکستان کی چھوٹی سی سکھ کمیونٹی میں خوف و ہراس پیدا ہو گیا ہے جبکہ اس تازہ تشدد نے اس کمیونٹی کو عسکریت پسند گروہوں کی طرف سے نشانہ بنائے جانے کے امکانات کو مزید واضح کر دیا ہے۔

اگرچہ پاکستانی طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی لیکن مقامی پولیس نے جنگجوؤں کے اس دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دراصل یہ ایک سیاسی قتل تھا اور ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے اداروں نے ملک میں اقلیتیوں کو تحفظ فراہم کیے جانے کی حکومتی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان میں ہیومن رائٹس واچ کی چیئرپرسن زہرہ یوسف نے اے پی سے گفتگو میں کہا، ’’صورتحال المناک ہے لیکن پاکستان میں ایسا ہی رجحان پایا جا رہا ہے۔ یہ مسلسل عدم برداشت کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘‘

پشاور میں واقع اس تاریخی سکھ گردوارے کی سکیورٹی ہائی الرٹ رکھی گئی ہے۔ وہاں نہ صرف سیکورٹی فورسز کی موجودگی کو یقینی بنایا گیا ہے بلکہ سکھ برداری نے سلامتی کی خاطر اپنے طور پر پرائیویٹ سکیورٹی کا بھی انتظام کر رکھا ہے۔ تاہم وہاں رہنے والی مسلمان آبادی کو خدشہ ہے کہ اس گردوارے کو نشانہ بنایا جانا ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔

پشاور میں سکھ کمیونٹی کے سکیورٹی چیف گرپال سنگھ کے بقول، ’’سکیورٹی انتہائی ضروری ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے جو یہاں عبادت کی خاطر آنا چاہتے ہیں، انہیں کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ اس گردوارے کے سامنے ہی واقع ایک کتب خانے کے مالک گوہر اقبال نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ جنگجو اس عبادت گاہ کو ضرور نشانہ بنائیں گے، ’’ہم بچوں کے لیے پریشان ہیں، اگر یہاں کچھ ہو گیا تو کیا ہو گا؟‘‘ اس گردوارے سے متصل لڑکیوں کا ایک ہائی اسکول بھی ہے۔

دوسری طرف پشاور کی مقامی آبادی میں ایسے حلقے بھی موجود ہیں، جو اس عبادت گاہ کے کھول دیے جانے پر خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اقلیت کو اپنے عبادت گاہوں میں جانے کی آزادی ہونا چاہیے اور اس حوالے سے انہیں کوئی خوف بھی نہیں ہونا چاہیے۔

یہ معلوم نہیں ہے کہ پاکستان میں سکھوں کی تعداد کتنی ہے۔ سن 1947 میں تقسیم ہند کے نتیجے میں ہندووؤں کے ساتھ سکھوں کی ایک بڑی تعداد بھی بھارت ہجرت کر گئی تھی۔ پاکستان کے قبائلی علاقے سے سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔

اس گردوارے میں رضا کارانہ طور پر کام کرنے والے اور اپنی کمیونٹی کے ترجمان چرن جیت سنگھ کئی برس قبل اورکزئی ایجسنی سے ہجرت کر کے پشاور آئے تھے۔ انہوں نے اے پی کو بتایا کہ مقامی سکھ کمیونٹی سن 2012 سے کوشش میں تھی کہ اس گردواوے کو عبادت کے لیے کھول دیا جائے۔ ممکنہ خطرات کے باوجود چرن جیت سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ جنگجوؤں سے شکست تسلیم نہیں کریں گے، ’’ اگر ہم نے ایسا کیا تو وہ جیت جائیں گے۔ ہم پرعزم ہیں کہ ہمارے مقدس مقامات کھلے رہیں۔‘‘