1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پشاور میں پولیس مرکز پر خود کش حملہ، سات افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں دہشت گردوں کے سی آئی ڈی سینٹر پر خودکش کار حملے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد جاں بحق جبکہ 33 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

default

دھماکے سے تین منزلہ عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ امدادی اداروں کے اہلکاروں کے مطابق اب بھی ملبے تلے کئی لوگ دبے ہیں جنہیں نکالنے کی کوشیش کی جا رہی ہے۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں پہنچایا گیا، جہاں تین پولیس اہلکاروں سمیت نو کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

DW/ Khan

شہر کے تین بڑے ہسپتالوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا گیا ہے۔ پشاور پولیس کے سینئر سپریٹنڈنٹ اعجاز خان نے میڈیا کو بتایا،’’ بارود سے بھری سوزوکی تھانے کی دیوار سے ٹکرا دی گئی، گاڑی میں 250 سے300 کلوگرام تک بارودی مواد اور ملٹی ایم بی 12 قسم کے میزائل تھے اور حملے کے وقت تھانے میں 15 کے قریب اہلکار موجود تھے۔“

پولیس کے مطابق بارود سے بھری گاڑی تھانے کی عمارت سے اس وقت ٹکرائی جب اندر موجود اہلکار سورہے تھے۔ دھماکے سے آس پاس کی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ جس کے بعد تھانے کی جانب جانے والے تمام راستے بند کردیے گئے۔ مذکورہ تھانہ پشاور کی معروف شاہراہ یونیورسٹی روڈ پر انتہائی حساس علاقے میں واقع ہے جس پر اس سے قبل بھی راکٹوں سے حملہ کیا گیا تھا۔

NO FLASH Anschlag in Peschawar Pakistan

دو مئی کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز پر یہ چوتھا حملہ ہے۔ جس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حساس اداروں نے تمام صوبوں کو مطلع کیا تھا کہ ملک بھرکے 300 سے زیادہ اعلیٰ پولیس افسران دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں. ان میں ایسے افسران بھی شامل ہیں جوخودکش حملوں کی تحقیقات کر رہے ہیں یا پھر انہوں نے کارروائی کے دوران دہشت گردوں کو گرفتار کرکے سزا دلوائی ہے۔

ان میں زیادہ تر انسپکٹر اور ڈی ایس پی رینک کے اہلکار شامل ہیں جبکہ بعض تحقیقاتی اداروں کے افسران بھی ان کی ہٹ لسٹ پر بتائے جاتے ہیں۔ صبوبائی حکومت نے مرنے والے پولیس اہلکاروں کے ورثاء کو تین، تین لاکھ روپے اور ان کے بچوں کو مفت تعلیم دینے کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ: فرید اللہ خان، پشاور

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس