1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پشاور میں پاکستانی خفیہ ایجنسی کے دفتر پر کار بم حملہ

پشاور میں پاکستانی خفیہ ادارے کے دفتر پر بم حملہ ہوا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملے سے عمارت تباہ ہوگئی ہے۔ حکام کے مطابق کم از کم سات افراد ہلاک جبکہ پینتیس زخمی ہیں۔

default

بتایا جاتاہے کہ یہ ایک کاربم دھماکہ تھا جو آئی ایس آئی کے دفتر کے باہر کیا گیا۔ یہ دھماکہ اس قدر شدید تھا، جس کی گونج شہر بھر میں سنی گئی ہے اور آس پاس موجود بعض درخت بھی اکھڑ گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد علاقے پر دھوئیں کے بادل پھیل گئے جبکہ ہر طرف ملبہ بکھرا دکھائی دیا۔

اس کے نتیجے میں ملکی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس ISI کے علاقائی صدر دفتر کی تین منزلہ عمارت بری طرح متاثر ہوئی۔ مقامی انتظامیہ کے سربراہ صاحبزادہ انیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے بیشتر عام شہری ہیں۔

Mindestens 50 Tote bei Anschlag in Peshawar

پشاور کی ایک مارکیٹ میں گزشتہ ماہ کے بم دھماکے میں تقریبا ایک سو افراد ہلاک ہوئے

سیکیورٹی اہلکاورں نے لوگوں کو جائے حادثہ کے قریب آنے سے روکنے کے لئے ہوائی فائرنگ کی۔ بعدازاں فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق ہسپتالوں میں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے، جہاں زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کے رشتہ دار جمع تھے۔

شدت پسند گزشتہ ماہ جنوبی وزیرستان میں فوج کے زمینی آپریشن کے آغاز کے بعد سے پشاور میں متعدد حملے کر چکے ہیں۔

جمعہ کا یہ دھماکہ رواں برس مئی کے بعد سیکیورٹی ایجنسی کے کسی ہدف پر ہونے والا پہلا حملہ بتایا جاتا ہے۔ اُس وقت صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس کی عمارت پر خودکُش دھماکے میں چوبیس افراد ہلاک ہوئے۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ اٹھائس مہینوں کے دوران دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں تقریبا ڈھائی ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکومت ان حملوں کے لئے تحریک طالبان پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ طالبان ایسے متعدد حملوں کو اپنے رہنما بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی انتقامی کارروائی قرار دے چکے ہیں۔

یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے، جب جمعرات کو جنوبی وزیرستان آپریشن کے دوران طالبان کی مزاحمت کے نتیجے میں سترہ فوجی ہلاک ہوئے۔ جنوبی وزیرستان میں زمینی آپریشن میں پاکستان کے تیس ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں جبکہ انہیں جیٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM