1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

پشاور میں غیرت کے نام پر باپ کے ہاتھوں دو بیٹیوں کا قتل

پشاور میں ایک باپ نے اپنی دو بیٹیوں کو مبینہ طور پر فائرنگ کر کے غیرت کے نام پر ہلاک کر دیا ہے۔ اعداد وشمار کی رو سے پاکستان میں سالانہ ایک ہزار خواتین غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں۔ خاتون صحافی فرزانہ علی کا تبصرہ۔

حوالات کی سلاخوں کے پار سر جھکائے آہستہ آہستہ بولتے عبدالغنی کی زبان پر بس ایک ہی جملہ تھا، ’’مجھ سے غلطی ہو گئی۔ میں اپنی غیرت کے ہاتھوں مجبور تھا۔‘‘ جب میں نے غنی سے سوال کیا کہ کیسی غیرت؟ تو بولا ،’’ ان دونوں کے موبائل فونوں پر انجان مردوں سے رابطے تھے اور وہ اکثر گھر سے بھی غائب ہو جاتیں تھیں ۔لوگ طعنے دیتے اور طرح طرح کی باتیں کرتے تھے جو مجھ سے برداشت نہ ہوا۔ ایک دن ایک بیٹی نورین تین روز بعد گھر لوٹی اور اگلے روز صبح نورین اور دوسری بیٹی شمیم دونوں دوبارہ گھر سے نکلنے لگیں تو میں نے فائرنگ کر کے دونوں کو ہلاک کر دیا۔‘‘

میر ااگلا سوال اس کے پہلے جملے سے متعلق تھا،’’جب آپ کہہ رہے ہیں کہ دونوں کے غلط کاموں میں ملوث ہونے کی وجہ سے آپ نے ان کو قتل کیا تو پھر اب شرمندگی کیسی؟‘‘

 اس پر عبدالغنی نے جواب دیا،’’ بس اب ٹھیک نہیں لگ رہا ہے کیونکہ میرے اس ایک جذباتی اقدام سے میرا گھر تباہ ہو گیا ہے۔میں جیل میں ہوں، بچیاں مر گئیں اور علاقے والوں نے الگ ہمارا جینا حرام کر دیا ہے۔ ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔‘‘
یہ کوئی پہلی بار نہیں تھا کہ ایک مجرم غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کرنے کے بعد کی شرمندگی سے مجھے آگاہ کر رہا تھا بلکہ ایسے کئی کیس مجھے زبانی یاد ہیں کہ جرم کے بعد کی شرمند گی اور پھر غیرت کے نام پرقتل سے متعلق بنائے گئے قوانین میں تاحال موجود سقم کی وجہ قاتل آج بھی آزاد پھر رہے ہیں۔

 یہی وجہ ہے کہ اگر ہم خیبر پختونخوا میں صرف گذشتہ نو ماہ کی ہی بات کر لیں تو ہمیں غیرت کے نام پر قتل کے 24 رجسٹرڈ کیسز نظر آتے ہیں ۔جبکہ 2016 میں یہ تعداد 44 بتائی گئی تھی۔ تاہم کسی بھی کیس میں اب تک مجرم کو سزا نہیں ملی۔ کچھ اب تک فرار ہیں جبکہ کچھ کا جرم قصاص اور دِیت کی آڑ میں راضی نامے میں چھپایا جا چکا ہے۔  کچھ گرفتار بھی ہوئے لیکن سزا تاحال نہیں ملی۔ وہ چاہے حنا شہنواز ہو یا نغمانہ، نوشین ہو یا الماس بی بی، ان تمام خواتین کا قتل غیرت کی تشریح میں ڈھل کر عورت کو گناہ گار اور مرد کو غیرت مند ثابت کر تے ہوئے خاموش ہو چکا ہے۔

یہی مجھے شمیم اور نورین کے والد سے مل کر محسوس ہوا۔ ایف آئی آر کروانے والا بھائی بھی قتل کے مقصد کو بہنوں کے مشکوک عمل کا شاخسانہ درج کروائے گا تو نتیجہ صاف ظاہر ہے۔ اس سے  قبل جب حنا شہنواز کا قتل ہوا اور میں نے اسکے بہنوئی سے بات کرنا چاہی تو اُس نے صاف کہہ دیا،’’ بی بی یہ دو کزنز کا آپس کا معاملہ ہے میں کسی کی دشمنی کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔‘‘ اب اہم سوال یہ ہے کہ آخر غیرت کے نام پر قتل کے لیے بنائے گئے قوانین کے باوجود اس کی روک تھام ممکن کیوں نہیں ہو پا رہی۔؟ اگر ہم پشاور ، نوشہرہ، سوات اور کوہستان کی بات کریں تو ہر روز اخبار ان علاقوں میں خواتین کے غیرت کےنام پر قتل کی داستانیں سناتے نظر آتے ہیں ۔ حتیٰ کہ قانون نافذ کرنے والوں کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں بھی قاتل کے لئے ہمدردی اور مقتول کے لئے نفرت بارہا محسوس ہوئی۔

جب تک قاتل کے عمل کو قانونی ،مذہبی یا روایاتی معافی سے الگ نہیں کیا جاتا غیرت یونہی خواتین کے قتل کا آلہ کار بنتی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ عبدالغنی کی آواز اور اس کے بیٹے امجد کی کٹوائی گئی ایف آئی آر، دونوں میں مجھے قانونی سقم کا اعتماد چھلکتا نظر آیا۔ خاص طور پر تھانے کے محرر کے یہ الفاظ کہ ’منشیات کے استعمال کی وجہ سے اسکا دماغ خراب ہو گیا تھا اب بچارا اپنے کیے پر شرمندہ ہے‘۔

دو انسانی جانوں کا بہیمانہ قتل اور یہ شرمندگی۔

DW.COM

Audios and videos on the topic