1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پشاور میں خود کش حملہ، کم ازکم چار ہلاک

پاکستانی شہر پشاور میں ایک اور بم حملے میں حملہ آور سمیت چار افراد ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ حملہ پیر کی صبح پشاور کے رنگ روڈ کے پتنگ چوک پر واقع ایک پولیس چیک پوسٹ کے قریب ہوا۔

default

پولیس حکام کے مطابق حملہ آور رکشے میں بیٹھ کر آیا اور تلاشی کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا دیا، جس کے باعث جائے وقوعہ پر موجود پولیس اہلکار سمیت کل تین افراد جاں بحق ہوئے۔

دوسری طرف پیر کی صبح ہی باجوڑ ایجنسی کے تحصیل سالارزئی کے علاقے میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے کے نتیجے میں دو سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ریموٹ کنٹرول بم کی مدد سے سکیورٹی فورسز کی ایک کار کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس حملے میں ایک شخص زخمی بھی ہوا۔

Anschlag in Pakistan auf Luxushotel

باجوڑ ایجنسی ہوئے بم دھماکے میں دو سیکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔

کل اتوار کو ہی شمال مغربی سرحدی صوبے کے دارالحکومت پشاور میں ایک خودکش حملے میں کم از کم ایک درجن افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

سترہ اکتوبر سے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کا آپریشن جاری ہے۔ آپریشن کو ’راہ نجات‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس آپریشن کے تحت تقریباً تیس ہزار فوجی تحریک طالبان پاکستان کے گڑھ میں عسکریت پسندوں کا مقابلہ کررہے ہیں۔

فوج کا دعویٰ ہے کہ اب تک اس آپریشن میں 480 جنگجو مارے جا چکے ہیں جبکہ طالبان کے جوابی حملوں کے نتیجے میں 42 فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق فوجی کارروائیوں سے بچنے کے لئے طالبان، جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں سے فرار ہوکر دوسرے علاقوں میں پناہ لے رہے ہیں۔

آزاد ذرائع سے جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کی جاسکی کیونکہ فوج نے میڈیا پر کوریج کے حوالے سے بعض پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

رپورٹ: گوہر نذیر

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM