1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پشاور میں بین الصوبائی مقابلے

صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں جاری کشیدگی کے باوجود صوبائی دارالحکومت پشاورمیں بین الصوبائی کھیلوں کا آغاز ہوگیاہے۔

default

پاکستانی صوبہ سرحد کا داراحکومت پشاور، اپنی مخصوص روایات کا عکاس اس بار بین الصوبائی مقابلے پشاور میں ہوں گے

ان کھیلوں میں ملک بھرکےبارہ سو مرد اور خواتین کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ کھیلوں کی اس تقریب کا افتتاح صوبہ سرحد کے وزیراعلی سرحد امیر حیدر خان ہوتی نے کیاہے۔ اب تک مختلف کھیلوں کے مقابلوں میں پنجاب سرفہرست رہا ایتھلٹکس کے بارہ مقابلوں میں پنجاب نے دس میں کامیابی حاصل کی ہے۔ پنجاب نے 90پوائنٹس کے ساتھ پانچ گولڈ میڈل جبکہ سرحد نے دوگولڈ میڈل حاصل کیے ہیں جبکہ بلوچستان اور سندھ نے بالترتیب تیسری اور چوتھی پوزیشن حاصل کی ہے ۔کھیلوں کے یہ مقابلے ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب سرحد کے بندوبستی علاقوں سمیت قبائلی علاقوں میں کشیدگی میں اضافہ ہورہاہے۔ پشاور سے چند کلومیٹر کی مسافت پر واقع خیبرایجنسی پر بھی گزشتہ روز اتحادی افواج کے جیٹ طیاروں نے مبینہ بمباری کی ہے لیکن اسکے باوجود مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کھلاڑی بھی سرحد میں امن وامان کی صورتحال سے مطمئن نظرآتے ہیں۔ مقابلے میں حصہ لینے والی اتھلیٹ مہوش اورنیلم کہتی ہیں کہ پشاورمیں پہلا تجربہ ہے لیکن کسی قسم کاخوف نہیں ہے۔ تیسری بین الصوبائی گیمز کے آخری دن گرینڈ تقریب منعقد کیاجائیگا ۔جس میں مجموعی طورپر بہتر کارکردگی دکھانے والی ٹیموں کوانعامات دیئے جائیں گے۔ صوبائی وزیر کھیل سید عاقل شاہ کا کہنا ہے کہ’’ کھیلوں کی یہ بڑی تقریب منعقد کرکے ہم نے دنیا پرثابت کردیاہے کہ پختون امن پسند قوم ہے اورامن کیلئے کام کرنیوالوں کا ساتھ دیتے ہیں۔‘‘