1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پشاور میں بم دھماکہ، کم از کم 80 افراد ہلاک

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے گنجان آباد علاقے پیپل منڈی کے ایک بازار میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد80 ہو گئی ہے۔

default

پشاور کو اس سے قبل بھی دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے

اطلاعات کے مطابق بدھ کی صبح ہونےوالے اس کار بم حملے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 80 سے زائد ہے۔ زخمیوں کو مقامی ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس موقعے پر صوبائی وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ دھماکا گاڑی میں نصب بم سے کیا گیا، دھماکے کے نتیجے میں قریبی بازار کی ایک درجن سے زائد دکانیں منہدم ہو گئیں جبکہ قریب کھڑی متعدد گاڑیاں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

ایک مقامی ڈاکٹر حامد آفریدی نے خبر رساں ادارے AFP کو ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 80 افراد کی لاشیں ہسپتال لائی جا چکی ہیں۔ آفریدی کے مطابق پشاور کے تمام اہم ہسپتالوں میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا جا چکا ہے۔

ڈی سی او پشاور نے دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ڈی سی او پشاور کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں متعدد دکانیں منہدم ہو گئی ہیں اور ان کے ملبے تلے ممکنہ طور پر کئی افراد دبے ہوئے ہیں۔

دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرکے داخلی و خارجی راستے کی ناکہ بندی کردی ہے۔ امدادی ٹیمیں جائے واقعہ پر پہچ چکی ہیں۔

پشاور میں دہشت گردی کا اتنا بڑا واقعہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اپنے تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچی ہیں۔ ہلیری کلنٹن کے اس دورے میں خطے میں سلامتی کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے موضوعات انتہائی اہم خیال کئے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے

ادارت : عاطف توقیر