1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پشاور میں ایک اور کار بم دھماکہ: 9 ہلاک

آج بدھ کو پشاور میں ایک پولیس اسٹیشن کے قریب واقع ایک پُر ہجوم بازار میں ایک کار بم کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں پشاور میں یہ پانچواں حملہ تھا۔

default

پشاور میں ایک دھماکہ، فائل فوٹو

ایک کار میں نصب کیا گیا یہ بم اُس وقت پھٹا، جب لوگ صبح اپنے اپنے کام پر جا رہے تھے۔ دھماکے سے 16 دوکانیں اور 4 گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ پولیس افسر محمد اعجاز خان نے صحافیوں کو بتایا کہ ’یہ ایک ٹائم بم تھا، جس کا ہدف پولیس تھی۔ رَش کی وجہ سے یہ کار یہاں پارک کی گئی تھی‘۔ پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے مطابق حملے کے بعد وہاں 9 لاشیں لائی گئی ہیں۔ مرنے والوں میں ایک خاتون اور تین بچے بھی شامل ہیں۔

اِس حملے میں 20 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک رپورٹر کے مطابق اُس نے ہسپتال میں 23 زخمی دیکھے ہیں، جن میں 4 تا 12 سال کی عمروں کے چھ چے بھی شامل ہیں۔

اَسمارہ بی بی نامی ایک خاتون ایک ڈاٹسن پک اپ میں بیٹھی ایک نواحی گاؤں کی جانب جا رہی تھی ، جب اِس دھماکے کی زَد میں آ گئی۔ اِس خاتون کے مطابق ’شعلوں کی ایک لہر آ کر مجھ سے ٹکرائی۔ یہ اتنی طاقتور تھی کہ مجھے ایسے لگا، مَیں کسی بھٹی میں ہوں۔ میرا برقعہ بھی آگ کی لپیٹ میں آگیا اور مَیں نے اُسے دور پھینک دیا‘۔

Soldaten der pakistanischen Armee in Quetta

بحران زدہ صوبے بلوچستان میں کئی مقامات پر فوج نے امن و امان کی ذمہ داریاں سنبھال رکھی ہیں

اَسمارہ نے بتایا:’’میرے بچے بھی جل گئے۔ اُس کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں کہ کیا ہوا۔ جب مَیں ہسپتال پہنچی تو میرے رشتہ داروں نے بتایا کہ بچے زخمی ہوئے ہیں اور اب خیریت سے ہیں۔‘‘

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ایک افسر تنویر احمد نے رپورٹروں کو بتایا کہ اِس دھماکے میں 40 تا 45 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ ابھی گزشتہ ہفتے کے روز پشاور کو کوہاٹ سے ملانے والی سرنگ میں ایک دہرے ٹرک بم حملے میں 4 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اِسی دوران بحران زدہ صوبے بلوچستان میں آج کوئی 20 مبینہ عسکریت پسندوں نے فائرنگ کر کے پانچ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ مبینہ عسکریت پسندوں نے ہی اِسی صوبے کے ایک دوسرے ضلع میں ایک سینئر سرکاری عہدیدار کو اغوا کر لیا ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس