1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پشاور میں ایک اور خود کش حملہ

پشاور میں ایک اور خود کش حملے میں حکومت کے حامی ایک مقامی ناظم کو نشانہ بنایا گیا جس میں گیارہ مزید افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ طالبان عسکریت پسندوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

default

فائل فوٹو

پاکستان میں صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاورمیں کئے گئے خودکش حملے کے نتیجے میں ایک مقامی ناظم سمیت بارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ حملہ پشاور کے نواح میں ادیزائی کے علاقے میں واقع مویشیوں کی ایک منڈی میں ہوا، جس کا نشانہ علاقے کے ناظم عبدالمالک تھے۔ اس حملے میں تقریباً چالیس افراد زخمی بھی ہیں۔

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ آس پاس کھڑی متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئی۔ پولیس کے مطابق عبدالمالک طالبان مخالف تھے اور انہوں نے پشاور سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں طالبان مخلاف مقامی لشکر تشکیل دیا تھا۔ اس سے قبل بھی ان پر تین ناکام حملے کئے جا چکے ہیں۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال ذرائع کے مطابق مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ تقریباً دس زخمیوں کی حالت نازک ہے۔ پاکستان میں گزشتہ دنوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں شدید تیزی آئی ہے، صرف ماہ اکتوبر میں تین سو کے قریب عام شہری مختلف حملوں میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق ناظم عبدالمالک پر حملہ کرنے والے افراد ایک گاڑی میں سوار ہو کر آئے تھے اور ان کی تعداد پانچ کے قریب تھی۔پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

رپورٹ : عدنان اسحٰق

ادارت : شادی خان سیف