1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پشاور: مسیحی بستی پر حملہ: ایک شہری، چار عسکریت پسند ہلاک

آج جمعے کو پشاور کی وارسک روڈ پر واقع کرسچیئن کالونی پر پاکستانی طالبان کے ایک گروپ کی طرف سے ہونے والے خود کُش حملے میں کم از کم ایک شہری اور چار دہشت گرد کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور کے مسیحییوں کے ایک محلے پر متعدد مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کی۔ ان مسلح افراد نے دھماکا خیز مواد سے لیس خود کُش جیکٹیں پہن رکھی تھیں۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان کے ایک دھڑے جماعت الاحرا ر نے قبول کر لی ہے۔

پاکستانی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے اس مسلح گروپ کی طرف سے وارسک روڈ کے جس علاقے پر حملے کیا گیا، وہاں سکیورٹی فورسز اور پولیس کے ساتھ حملہ آوروں کی مسلح جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ اس تصادم میں کم از کم چار خود کُش حملہ آور بھی ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

پولیس اہلکار گُل وہاب نے ڈی پی اے کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ مسیحییوں کی کالونی کے احاطے پر حملہ آور ہونے والے مسلح گروپ میں کتنے عسکریت پسند شامل تھے۔ اس بارے میں بھی ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس دہشت گردانہ کارروائی میں حملہ آوروں کی طرف سے بستی کے افراد کو یرغمال بنایا گیا ہے یا نہیں۔

نجی ٹیلی وژن چینل دنیا کو ایک مقامی ایم پی ساجد نواز نے گل وہاب بیان دیتے ہوئے کہا کہ خود کُش بم حملہ کرنے والے اس گروپ کے ایک بمبار نے کرسچیئن کالونی کے داخلہ دراوزے پر پہنچتے ہی خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ پولیس اہلکار گُل وہاب کے مطابق حملہ آوروں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں ایک سکیورٹی اہلکار زخمی ہوا ہے۔ پاکستانی فوج نے کہا کہ دہشت گردی کے اس واقعے کے بعد اس علاقے میں بھاری تعداد میں کمانڈوز، پیراملٹری فورسز اور ایلیٹ پولیس نے کرسیچیئن کالونی میں مسلح دہشت گردوں کی تلاش کا کام شروع کر دیا ہے۔ اس علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔

پاکستانی ٹیلی وژن کو بیان دیتے ہوئے مقامی لوگوں نے بتایا کہ جمعے کی صبح پشاور کی وارسک روڈ پر قائم کرسچیئن کالونی سے پانچ زوردار دھماکے سنائی دیے۔