1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پشاور دھماکہ: عوام پریشان، حکام بے بس

دہشت گردی کے حالیہ واقعے میں ریڈزون میں واقع جو ڈیشل کمپلیکس کے گیٹ پر خودکش حملہ آور نے خودکو دھماکہ سے اڑا دیا ہے جسکے نتیجے میں پولیس کے تین اہلکاروں اورایک وکیل سمیت19 افراد ہلاک جبکہ 51 زخمی ہوئے ۔

default

پشاور میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں کا سلسلہ تواتر سے جاری ہے۔ ہر واقعے کے بعد حکومت سیکیورٹی سخت کرنے اور مزید اقدامات اٹھانے کا دعویٰ کرتی ہے تاہم تمام ناکہ بندیوں اور حصار کوتوڑتے ہوئے دہشت گردشہر کے انتہائی حساس علاقوں میں شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تنویر احمد کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 8سے 10کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا جبکہ پشاور کے ضلعی رابطہ آفیسر صاحبزادہ انیس کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمپلکس کے سامنے آنے والے خود کش حملہ آور کو پولیس نے روکنے اور تلاشی لینے کا کہا جس پر اس خود کو دھماکے سے اڑادیا۔

رواں برس اٹھارہ ستمبر سے اب تک صوبائی دارالحکومت کو بارہ مرتبہ دہشت گردی کانشانہ بنایاگیا جبکہ صوبہ بھر میں کئے گئے سترہ حملوں میں 401 افراد جاں بحق اورسو سے زیادہ زخمی ہوئے لیکن حکومتی اعلانات اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے بلند وبانگ دعووں میں کمی نہیں آئی ہے، بلکہ عوام سے مزید قربانی کے لئے تیار رہنے کا کہاجا رہا ہے۔

Explosion Pakistan Restaurant Peshawar

گزشتہ کچھ عرصے میں دہشت گردوں نے پشاور کو متعدد نشانہ بنایا ہے

صوبائی وزیر بشیراحمد بلور کاکہنا ہے : ’’اگر گرفتار افراد اورپکڑے جانیوالے دھماکہ خیز مواد کے بارے میں بتایا جائے توعوام مزید خوف زدہ ہوں گے۔ دہشت گردی میں ملوث افراد کو بیرون ملک سے بھرپور امداد مل رہی ہے۔ بے گناہ افرادکے قتل عام میں ملوث ان افراد سے عوام کی نفرت میں اضافہ ہورہا ہے اوریہی وجہ ہے کہ آج وہ دیگر تنظیموں کانام لے رہے ہیں تاکہ عوام کی توجہ ان سے ہٹ جائے۔ اب تک ہونے والے ان دھماکوں میں یہاں کے معصوم اور بے گناہ پختون ہی مارے گئے ہیں اس میں کسی غیرملکی کونہیں مارا گیا۔‘‘

انہوں نے سیکورٹی انتظامات کو تسلی بخش قراردیتے ہوئے کہا: ’’صوبہ حالت جنگ میں ہے اور جنگ میں سب کچھ ہوسکتا ہے۔ وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے بعد یہ لوگ پشاور اور اس کے نواحی علاقوں میں پھیل گئے ہیں، جہاں سے یہ کارروائیاں کر رہے ہیں لیکن ہم ان کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔‘‘

لیکن عوام کی قوت برداشت اب جواب دینے لگی ہے جوڈیشل کمپلیکس پرہونے والے حملے کے بعد وکلاء برادری نے صوبائی حکومت کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا سینکڑوں وکلاء نے حکومت سے عوام کو تحفظ فراہم کرنے یا پھر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ وکلاء نے جمعے کو یوم سیاہ کے طور منانے اورعدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ عوام انہی وکلاء کے احتجاج کوحکومت پالیسیوں پر عدم اعتماد کی تحریک کانکتہ آغاز قرار دے رہے ہیں۔

Mindestens 50 Tote bei Anschlag in Peshawar

حکام دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام میں بے بس دکھائی دے رہے ہیں

صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی اورپیپلزپارٹی نے عوام کوتحفظ فراہم کرنے اورامن قائم کرنے کا نعرہ دیا، جس پر عوام نے کھل کر ان جماعتوں پر اعتماد کرکے انہیں مرکز اور صوبے میں حکومت بنانے کا موقع دیا تاہم یہ جماعتیں امن قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔

حکومتی ترجمان میاں افتخارحسین کاکہنا ہے: ’’دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند کردیئے گئے ہیں۔ حکومت ان لوگوں سے کس طرح مذاکرات کرسکتی ہے، جو عوام کی بہنوں اور بیٹیوں کو مال غنیمت سمجھتے ہیں ہم ان کا اس وقت تک مقابلہ کریں گے جب تک ان کا خاتمہ نہیں کردیا جاتا۔ اس کے لیے ہمیں خواہ کتنی ہی قربانی دینی پڑے ہم دینے کے لئے تیار ہیں لیکن ان کے آگے کھبی سرنہیں جھکایئں گے اور نہ ہی عوام کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑیں گے۔‘‘

ماہ نومبر کے انیس دنوں میں ہونے والے چھ خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے بعد عوام بجا طورپر امن کے نام پراقتدار میں آنے والی جمہوری حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے جہاں عوام مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ آچکے ہیں وہاں مرکزی حکومت کی پالیسیاں ان سے جینے کا حق بھی چھین رہی ہے۔ موجودہ حکومت شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی جگہ جگہ چیک پوسٹوں اورناکہ بندیوں سے عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے۔ شہر کے اکثریتی علاقے عام شہری کے لئے نوگر ایریاز بن چکے ہیں، جو حکومتی پالیسی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ شہریوں کاکہنا ہے کہ اب عوام کو حکومتی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر آنا چاہے تاکہ مزید قربانی کا مطالبہ کرنے والوں کو پالیسیاں تبدیل کرنے یامستعفی ہونے پرمجبور کیاجائے۔

رپورٹ : فرید اللہ خان، پشاور

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM