1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پشاور دھماکہ: سات افرات ہلاک، 18 زخمی

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل شفقت ملک کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ تھا جس میں پولیس افیسر ،انکا ڈرائیور، ایک راہگیر اور دو اہلکار جانبحق ہوئے۔

default

پشاور کچھ عرصے سے مسلسل دہشت گردانہ حملوں کی زد میں ہے

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت میں پولیس پر ہونے والے دو حملوں میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک جبکہ 18زخمی ہوئے ہیں۔ پہلا حملہ کوہاٹ روڈ پر گڑھی قمر دین کے علاقے میں ہوا جس میں پولیس افسر رشید خان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل شفقت ملک کا کہنا ہے کہ یہ حملہ آور جسکی عمر سترہ سال تھی ، پیدل آرہا تھا اس نے دھماکے میں سات کلو گرام بارود استعمال کیاہے۔ خودکش حملہ آور کے اعضاء ملے ہیں جس سے تفتیشی کارروائی کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔ پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا ہے جبکہ امدادی اداروں نے زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کردیا ہے جس میں کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ پولیس پر دوسرا حملہ پشاور کے داخلی راستے پشتخرہ کے سیکورٹی چیک پوسٹ کے قریب کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق یہ حملہ ایک ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے کیا گیا جس میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔

Mindestens 50 Tote bei Anschlag in Peshawar

دو ہزار نو میں پشاور میں ہونے والے بم دھماکے میں درجنوں جانیں ضایع ہوئی تھیں

سال رواں کے پہلے ماہ کے دوران یہ عسکریت پسندوں کی پانچویں کاروائی تھی ان کاروائیوں میں زیادہ تر تعلیمی اداروں اور پولیس کو نشانہ بنایا گیا تاہم ان کاروائیوں کے باوجود صوبائی حکومت امن و امان کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے مطمئن ہے اور عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی تیز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان میاں افتخار حسین کا کہنا ہے "ہم سمجھتے ہیں کہ پہلے کی نسبت دھماکوں کی شدت میں کمی آئی ہے اب عسکریت پسندوں کی کارکردگی پہلے کی طرح نہیں رہی۔ ہم دھشت گردی کو مکمل ختم تو نہیں کرسکتے لیکن اسکی شدت میں کمی ضرور لاسکتے ہیں ۔ ہم انکے نٹ ورک کو کمزور کریں گے انکے مراکز کو نشانہ بنائیں گے اور اپنے عوام کو محفوظ بنانے کےلئے جانوں کا نذرانہ پیش کریں گے لیکن ان کے خلاف اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے" ۔

Drug addicted people in Pakistan's North west Khayber Pakhtoon khowa province's Capital Peshawar

صوبہ خیبر پختونخواہ دہشت گردی کےعلاوہ منشیات کی لعنت سے بھی تباہ ہو رہا ہے

یہ بات قابل زکر ہے کہ چند روز قبل عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے ایک مرتبہ پھر عسکریت پسندوں کو مذاکرات کی مشروط پیش کش کی تھی انکا کہنا تھا کہ جو لوگ اسلحہ رکھ کر حکومت کی عملداری تسلیم کرنے کیلئے تیار ہیں ہم ان کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں سال نو کا پہلا دھماکہ چھ جنوری کو بشیر آباد میں ہوا اس دھماکے میں ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا ۔دوسرا دھماکہ 12جنوری شگئی ہندکیان میں ہوا جس میں ایک نجی اسکول کی وین کو نشانہ بنایا گیا اس دھماکےمیں دو ٹیچرز ہلاک جبکہ تین بچوں سمیت سات افراد زخمی ہوئے تھے اسی طرح 19جنوری کو پشاور صدر کے گنجان آباد علاقہ نوتھیہ میں اسکول کے باہر ہونے والے دھماکے میں ایک راہگیر ہلاک جبکہ پندرہ افراد زخمی ہوئے۔ گڑھی قمر دین میں ہونے والا خودکش حملہ سال رواں کا چوتھا جبکہ پشتخرہ میں ہونیوالا ریموٹ کنٹرول دھماکہ دھشت گردی کی پانچویں کارروائی ہے۔

رپورٹ: فریداللہ خان / پشاور

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس