1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پشاور حملے کے بعد کی پانچ بڑی تبدیلیاں

ٹھیک ایک برس قبل پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد پاکستانی حکومت کی عسکریت پسندی اور شدت پسندی کے خلاف پالیسی میں واضح تبدیلی آ چکی ہے۔ اس ایک سال میں کون سی پانچ بڑی تبدیلیاں آئی ہیں؟

ایک برس کے دوران آنے والی پانچ بڑی تبدیلیاں

سزائے موت پر عمل درآمد بحال

اس حملے کے فوری بعد پاکستانی حکام نے سزائے موت دینے پر عائد وہ پابندی اٹھا لی تھی، جو اس سے پہلے کے چھ سال سے زائد کے عرصے سے عائد تھی۔ اس کے بعد سے اب تک قریب تین سو مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ اس دوران حکام اس کوشش میں ہیں کہ سزائے موت کے منتظر تقریباً سات ہزار مجرموں کو جلد از جلد تختہ دار پر لٹکا دیا جائے۔ ان میں سے زیادہ تر عدالتی کارروائی مکمل ہونے اور رحم کی اپیلیں مسترد کیے جانے کے بعد کئی برسوں سے جیلوں میں اپنی سزاؤں پر عمل درآمد کے انتظار میں ہیں۔

نفرت انگیز بیانات ناقابل برداشت

سولہ دسمبر 2014ء کے بعد متعدد مذہبی رہنماؤں اور خطیبوں کے علاوہ عام شہریوں کو نفرت انگیز تقاریر اور سماجی ویب سائٹس پر امتیازی پیغامات لکھنے کے الزامات میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ پاکستان میں یہ گرفتاریاں اپنی نوعیت کے غیر معمولی واقعات ہیں کیونکہ کئی دہائیوں سے حکام نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتے تھے۔ پاکستان میں کٹر اور انتہا پسند مذہبی رہنما اپنی تقریروں میں مخالف مسالک کے افراد کے قتل کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ تاہم گزشتہ برس نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق رائے کے بعد ایسے افراد کے خلاف اقدامات کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

توہین مذہب کے جھوٹے الزامات کی روک تھام

پاکستان میں کئی دہائیوں سے سخت گیر موقف رکھنے والے مسلمان اپنی ذاتی دشمنی نکالنے کے لیے توہین مذہب کے متنازعہ قانون کا سہارا لیتے ہیں۔ 1980ء کی دہائی میں بنائے جانے والے اس قانون کے مطابق اسلام، پیغمبر اسلام یا قرآن کی بے حرمتی کرنے والے کی سزا موت ہے۔ تاہم اس دوران حکام نے ان افراد اور گروہوں کے خلاف اقدامات تیز کر دیے ہیں، جو ذاتی مقاصد کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

طالبان کے حامی خطیبوں کے خلاف عوامی ردعمل

ایک سال پہلے یہ ناقابل تصور تھا، تاہم پشاور اسکول پر حملے کے بعد ان مبلغوں کے خلاف بھی احتجاج سامنے آیا ، جنہوں نے طالبان کے اس حملے کو تنقید کا نشانہ بنانے سے انکار کر دیا تھا۔ دارالحکومت اسلام آباد میں شہری حقوق کی تنظیموں کی جانب سے متنازعہ لال مسجد کی جانب سے جاری کیے جانے والے اس بیان پر شدید احتجاج کیا گیا، جس میں پشاور اسکول حملے کو ملک کے شمالی مغربی علاقہ جات میں جاری فوجی آپریشن کا رد عمل قرار دیتے ہوئے جائز قرار دیا گیا تھا۔

مدرسوں کی نگرانی سخت

اسلامی تعلیمات کے مراکز یا مدرسوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں پر شدت پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ایسے متعدد اداروں کا انتظام بااثر مذہبی شخصیات کے ہاتھوں میں ہے اور یہ لوگ سرکاری سطح پر معاملات کی جانچ پڑتال کے عمل سے بچتے رہتے تھے۔ تاہم آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد حکومت نے مدرسوں کی رجسٹریشن کا سلسلہ شروع کیا اور ساتھ ہی ان مدرسوں کے خلاف کارروائی بھی کی، جو نفرت اور تشدد کا پرچار کر رہے تھے۔