1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پشاور حملہ: فوجی عدالتوں نے سات مجرموں کو سزائے موت سنا دی

پاکستانی فوجی عدالتوں نے پشاور اسکول حملے میں ملوث سات دہشت گردوں کو موت کی سزا سنا دی ہے۔ طالبان کے اس حملے میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد مارے گئے تھے۔ ہلاک شدگان میں سے زیادہ تر اسکول کے بچے تھے۔

پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک تھا۔ اسی حملے کے بعد پاکستانی حکومت نے سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد چھ سالہ پابندی ختم کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دے دی تھی۔ آج ان سات عسکریت پسندوں کو سزائے موت مختلف ملٹری کورٹس کی طرف سے سنائی گئی جبکہ ایک آٹھویں ملزم کو اسی اسکول پر حملے میں معاونت کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

پاکستانی فوج کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’مجرموں کے خلاف مقدمہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے منصفانہ طریقے سے چلایا گیا اور انہیں ان کے باقاعدہ دفاع کے لیے قانونی مدد اور وکلائے صفائی بھی مہیا کیے گئے تھے۔ آج ہی چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے ان کو سنائی گئی موت کی سزاؤں کی توثیق بھی کر دی گئی ہے۔‘‘

پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان سزا یافتہ مجرموں کو ایک فوجی عدالت میں اپیل کا حق حاصل ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پشاور اسکول حملے میں ملوث ایک مجرم کا تعلق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جبکہ باقی چھ کا تعلق ’توحید والجہاد (ٹی ڈبلیو جے) نامی جہادی گروپ سے ہے۔

اسی طرح پاکستانی فوج کی طرف سے آج ہی ایک اور ملزم کے لیے بھی سزائے موت کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والا آٹھواں مجرم ہے، جو کراچی کے علاقے صفورا چورنگی میں فوجیوں کی ایک گاڑی پر مسلح حملے میں ملوث تھا۔ اس مجرم کا تعلق جہادی تنظیم جیش محمد سے بتایا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں نہ صرف مجرموں کے نام بتائے گئے ہیں بلکہ ان کی مسلح کارروائیوں کی مختصر تفصیل بھی فراہم کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے فوجی عدالتوں میں چلائے جانے والے ان مقدمات کی شفافیت پر سوال اٹھایا جاتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ ان فوجی عدالتوں کی آئینی حیثیت کو ملکی سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کر دیا گیا تھا۔ تاہم گزشتہ ہفتے اس اعتراض کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس ناصر الملک کا اس مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے کہنا تھا کہ عدلیہ منتخب پارلیمنٹ کی طرف کی گئی آئینی ترامیم کو ختم کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔

پاکستان نے گزشتہ برس سولہ دسمبر کے پشاور حملے کے بعد پہلے صرف دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت دیے جانے پر عائد پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعد ازاں موت کی تمام سزاؤں پر عمل درآمد کے احکامات جاری کر دیے گئے تھے۔