1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پشاور اور بنوں میں دھماکے، 18 افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ سرحد میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایک دھماکہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں ہوا، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے۔

default

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکار شفقت ملک نے بتایا کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا، جس میں ایک سو کلوگرام تک بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ خود کش بمبار نے پہلے ایک ہینڈ گرینیڈ پھینکا ، جس کے بعد اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ شفقت ملک کے مطابق حملے کا نشانہ عسکری بینک تھا ، جو پاکستانی فوجی کے زیرانتظام ہے۔

دھماکے کی شدت سے آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور قریب کھڑی کم از کم 21 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔پولیس نے واقعےکی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

Selbstmordattentat in Pakistan

بنوں دھماکے میں چھ افراد ہلاک ہوئے

اس سے قبل مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے ضلع بنوں میں ہونے والے بم دھماکے میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔ ضلع کے پولیس افسر اقبال مروت نے بتایا کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا۔ سینیئر طالبان لیڈر قاری حسین نے خبر رساں اداروں سے بات کرتے ہوئے اس حملےکی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے بیت اللہ محسود کی ہلاکت کا بدلہ ہیں۔ قاری حسین کے مطابق جو افراد یہ سمجھ رہے ہیں کہ بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد طالبان کمزور ہوگئے ہیں، وہ غلط فہمی کا شکار ہیں اور وہ مستقبل میں بھی سرکاری تنصیبات کو اہداف بناتے رہیں گے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ صوبہ سرحد میں ہونے والے بم حملوں کی پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سمیت دیگر رہنماؤں نے شدید مذمت کی ہے۔ صوبائی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ان دہشت گردانہ حملوں میں مرنےوالوں کے لواحقین کو تین تین لاکھ جبکہ زخمیوں کو ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: ندیم گِل

DW.COM