1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پریٹوریا سمٹ میں توجہ معیشت اور ماحول پر، سنگھ

بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ کی منگل کے روز پریٹوریا میں ہونے والی سہ فریقی سمٹ میں ممکنہ طور پر زیادہ تر توجہ معیشت، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بہتر باہمی تعاون اور تحفظ ماحول کی کوششوں کو حاصل رہے گی۔

default

نئی دہلی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پانچ رکنی ’برکس‘ گروپ میں شامل برازیل اور جنوبی افریقہ کے ساتھ بھارت کی ہر سال ہونے والی مشترکہ سربراہی کانفرنس کے لیے جنوبی افریقہ روانہ ہونے سے پہلے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس اجلاس میں تینوں ملک عالمی اقتصادیات کی موجودہ صورت حال اور مالی بحران سے متعلق مشورے بھی کریں گے۔ برکس گروپ میں شامل باقی دو ملک روس اور چین ہیں، جو سلامتی کونسل کے مستقل رکن بھی ہیں۔

BRICS Treffen in China 2011 mit Singh, Medwedew, Hu Jintao, Rousseff und Zuma

برکس گروپ کے گزشتہ اجلاس کی ایک تصویر

وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دفتر کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پریٹوریا میں تینوں ملکوں کے سالانہ سربراہی اجلاس میں خاص طور پر جی ٹوئنٹی کے 23 اکتوبر کو فرانس میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے پہلے عالمی اقتصادی اور مالیاتی صورت حال سے متعلق تبادلہ خیال کیا جائے گا، جو اس لیے بھی سود مند ثابت ہو گا کہ فرانس میں بیس کے گروپ کے اجلاس میں ’برکس‘ ممالک زیادہ بہتر اور مربوط حکمت عملی اپنا سکیں۔

اپنے اس بیان میں ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ کا یہ سالانہ اجلاس، جسے ایک چھوٹے سے غیر رسمی گروپ کے طور پر IBSA کا نام بھی دیا جاتا ہے، پچھلے چند برسوں سے ایک ایسے مذاکراتی فورم کا روپ اختیار کر چکا ہے، جس کا منظر نامہ کافی وسیع ہو چکا ہے اور جس میں اب ایک دوسرے سے تعاون بھی زیادہ وسیع بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم کے بقول تین بڑی اور ترقی پذیر جمہوریتوں کے طور پر بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ کا آپس میں مل کر کام کرنے کا تصور اب بہت پیچیدہ عالمی سیاسی ماحول میں اپنی جگہ بنا چکا ہے اور اسے ان ملکوں کے عوام کی قطعی تائید بھی حاصل ہے۔

منموہن سنگھ کے بقول یہی تینوں ملک اس سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن ملک بھی ہیں اور اس لیے ان کا اس عالمی ادارے کی سطح پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ بہت گہرا تعاون انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔

IBSA ممالک کی آپس میں مشاورت بین الاقوامی سیاست میں کافی حد تک ایک متفقہ رنگ بھی لیے ہوئے ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اسی مہینے کے اوائل میں جب عالمی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف ایک مذمتی قرارداد پر رائے شماری ہوئی تھی، تو ان تینوں ملکوں نے بیک آواز اس قرارداد کی حمایت یا تائید کرنے کی بجائے اپنی اپنی رائے محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

رپورٹ: مقبول ملک / خبر رساں دارے

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM