1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پریشان حال امریکی کار انڈسٹری کے لئے خصوصی قرضے کا اعلان

عالمی مالیاتی بحران کے اثرات نہ صرف مالی اداروں بلکہ دیگر صنعتوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اِس کی تازہ مثال امریکہ کی کار انڈسٹری ہے جو ہنگامی امداد کی بےصبری سے منتظر ہے۔

default

بُش انتظامیہ کی جانب سے کار انڈسٹری کو دیئے جانے والے قرضے کا حجم سترہ اعشاریہ چار ارب ڈالر ہے۔

امریکہ کے صدر جورج ڈبلیُو بُش نے اپنے ملک کی پریشان حال کار صنعت کے لئے خصوصی اور ہنگامی امدادی قرضہ دینے کے پلان کا اعلان کردیا ہے۔ بُش انتظامیہ کی جانب سے کار انڈسٹری کو دیئے جانے والے قرضے کا حجم سترہ اعشاریہ چار ارب ڈالر ہے۔ کار انڈسٹری نے اِس قرضے کے اعلان پر سکون کا سانس لیا اورمزید امیدیں نو منتخب صدر اوبامہ پر لگا لیں ہیں۔

اِس مناسبت سے اوبامہ کہتے ہیں کہ وہ بھی تین بڑے کار ساز اداروں اور اُن کے ایکزیکٹو پر زور دیں گے کہ وہ امریکی عوام کے صر کا امتحان نہ لیں۔ ’’ اگلے مہینوں اور ہفتوں کے دوران موجودہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اداروں کے حوالے سے ایک پائیدار پلان سامنے لائیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اُن کو اِس سلسلے میں کچھ سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔‘‘

USA Osteuropa Obama vor Osteuropakarte

صدر ۔منتخب یاراک اوباما سے آٹو انڈسٹری کو بہت سی امیدیدیں وابستہ ہیں۔

کم مدتی پالبسی کا حامل پلان: امریکی صدر کی جانب سے کار انڈسٹری کے جس قرضے کا اعلان ہوا ہے وہ کم مدتی پالیسی کا حامل ہے اور جواباً انسٹری کو حکومت کے جانب سے قرضے کی وصولی کے حوالے سے سخت شرائط کا بھی سامنا کرنا ہو گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ اقتصادی کساد بازاری میں جہاں مالیاتی مسائل گھمبر ہو رہے ہیں وہیں کار انڈسٹری کے لئے یہ قرضے بظاہر ایک ذمہ دارانہ فیصلہ دکھائی دیتا ہے۔

Präsident George Bush in Jerusalem

اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ کساد بازاری کے تناظر میں ان قرضوں کی واپسی مشکل دکھائی دیتی ہے۔

اِس مناسبت سے امریکی صدر کا بھی کہنا ہے کہ : ’’کار انڈسٹری کو قرضے دینا ایک ذمہ دارانہ سوچ ہے تا کہ وہ دیوالیہ ہونے سے بچ جائیں اور اپنے پیداواری ڈھانچے کی تعمیر نو کر سکیں۔ ‘‘ امریکی صدر مزید کہتے ہیں کہ ان کے اقتصادی مشیروں کا خیال ہے کہ کار انڈسٹری کا زوال محنت کش امریکی عوام کوناقابلِ قبول ہو گا۔ ’’ یہ روزگار کی منڈی کو کمزور کرتے ہوئے پہلے ہی پھیلےہوئے اقتصادی بحران کے حجم کو وسیع کرے گا۔ اِس حوالے سے مزید میں اگلے صدر کے لئے چھوڑ رہاں ہوں کہ وہ کار انڈسٹری کی طلب کے بارے میں غور کریں۔‘‘

کارساز انڈسٹری نے سکون کا سانس لیا: ڈیٹرائٹ میں واقع تین بڑے امریکی کار ساز اداروں کی جانب سے اِس پر مسرت کا اظہار کیا گیا۔ دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچی امریکی کار صنعت کو موجودہ قرضے کی واپسی کا آغاز اکتیس مارچ سے کرنا ہو گا۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ کساد بازاری کے تناظر میں اگر ایک طرف امریکی عوام کی جیب کار خریدنے کی اجازت نہیں دے رہی تو دوسری طرف عالمی سطح پر بھی ایکسپورٹ کا حجم بھی کم رہا ہے۔ ایسے میں کم پیداوار کے ساتھ بُش انتظامیہ کی جانب سے فراہم ہونے والے قرضے کی واپسی مشکل دکھائی دیتا ہے اور اِس سے کار انسٹری اگلے چند ماہ بعد مزید مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔ امریکی کار انڈسٹری سے وابستہ یونین نے قرضے کی فراہمی کے ساتھ جڑی شرائط کو انتہائی سخت قرار دیا ہے اور اُن کے مطابق اگلے چند ماہ بعد اِس صنعت سے مزید افراد افراد کو فارغ کیا جا سکتا ہے۔