1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پریشان حال افغان خواتین کی بحالی کے خفیہ مراکز

کابل سمیت چند اور شہروں میں استحصال زدہ خواتین کے مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ان کا انتظام ایک غیرسرکاری تنظیم کے کنٹرول میں ہے۔ ان مراکز کو افغانستان کے قدامت پسند حلقے معیوب سمجھتے ہیں۔

ایک غیرسرکاری تنظیم اور امدادی ادارے ویمن فار افغان ویمن (WAW) نے کابل کے نواح میں واقع ایک عمارت میں اپنا بحالی کا مرکز قائم کر رکھا ہے۔ اس تنظیم کے مراکز میں اُن خواتین کو پناہ دی جاتی ہے جو جنسی زیادتی کا شکار ہو چکی ہوں یا جبری شادی سے نجات کی کوشش میں ہوتی ہیں۔ یہ مرکز ایسی استحصال زدہ عورتوں کے لیے ایک بڑے سہارے کی علامت بن چکا ہے۔

افغان معاشرے میں ان مراکز کو استحسانی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاتا۔ سخت عقائد کے حامل افغان مردوں کے نزدیک یہ متنازعہ مراکز ہیں جہاں معاشرے کے مختلف طبقوں کی ایسی عورتیں مقیم ہیں، جن کا کردار ’قابلِ تعریف‘ نہیں ہے۔ قدامت پسندانہ سوچ کے حامل کئی شہری ایسے مراکز کو ’قحبہ خانے‘ بھی قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب یہ مراکز زیادتیوں کی ماری خواتین کے لیے ایک سہارا اور دفاع کا منبع خیال کیے جاتے ہیں۔

ان مراکز کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ ان کے دروازوں پر خفیہ کیمرے آنے جانے والوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ خفیہ مراکز کے باہر کسی مرد کی موجودگی کو مشتبہ انداز میں لیا جاتا ہے۔ ویمن فار افغان ویمن کی ڈائریکٹر ناجیہ نسیم کا کہنا ہے کہ اُن کے مراکز پوری طرح خفیہ ہیں اور کوئی بھی مرد وہاں نہیں جاتا، حتیٰ کہ تنظیم کے مرد ملازمین کو بھی مراکز پر جانے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی وہ جانتے ہیں کہ یہ مراکز کہاں پر واقع ہیں۔

Afghanistan - Jalalabad (Getty Images/AFP/N. Shirzada)

افغانستان میں خواتین کو معاشرتی و معاشی دباؤ کا سامنا رہتا ہے

ناجیہ نسیم کے مطابق قدامت پسند معاشرے اور طالبان عسکریت پسندوں کے تناظر میں ایسے مراکز کو خفیہ رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایسی سخت احتیاطی تدابیر وقت کا تقاضا بھی ہیں کیونکہ کئی مصیبت کی ماری خواتین کو اُن کے غصے میں بپھرے شوہر یا منتقم مزاج رشتہ دار ڈھونڈتے پھرتے ہیں تا کہ وہ اُن کو ہلاک کر کے اپنا غصہ ٹھنڈا کر سکے۔

ویمن فار افغان ویمن کے مراکز تیرہ مختلف صوبوں میں سن 2001  میں قائم کیے گئے تھے جب طالبان حکومت کو زوال آیا تھا۔ ان مراکز کے انتظامات کے لیے  خصوصی مالی امداد امریکا اور یورپی ممالک سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس ادارے سے منسلک ایک اور خاتون بنفشے ایفاف کا کہنا ہے کہ ڈبلیُو اے ڈبلیُو کے قیام سے قبل ستائی ہوئی خواتین کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہوتی تھی۔