1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

پروین شاکر: خود دار اوربا شعورعورت کی آواز

آج اس باکمال شاعرہ کی بائیسویں برسی کے موقع پر اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والا ہر فرد انہیں خراجِ تحسین پیش کر رہا ہے۔

معروف شاعرہ پروین شاکر نے اپنی شاعری میں صرف رومانوی موضوعات پر قلم نہیں اٹھایا بلکہ اُن کے اشعار میں بھرپور عصری شعور بھی ملتا ہے۔ پروین نے اپنی شاعری میں نسائی جذبات کی تہذیب یافتہ شکل کو متعارف کرایا۔

پروین شاکر نے کم سنی ہی میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اردو ادب پڑھنے والوں کے دِل میں گھر کر لیا تھا۔ ’خوشبو‘ کی رومانوی فضا سے لے کر ’صد برگ‘ تک کا شعری سفر کچے جذبات رکھنے والی لڑکی کے عصری اور قلبی تجربات کی بھٹی میں تپ کر کندن بننے کا سفر ہے۔

پروین شاکر کی جواں مرگی نے اُن کی شہرت کو کم نہیں ہونے دیا۔ آج بھی اردو ادب میں جب ایک مکمل شاعرہ کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو پروین کے نعم البدل کے طور پر کوئی شاعرہ ادبی منظر پر نظر نہیں آتی۔

معروف شاعرہ اور ماہرِ تعلیم شاہدہ حسن نہ صرف پروین شاکر کی بچپن کی دوست ہیں بلکہ انہوں نے زندگی کا ایک طویل عرصہ پروین کی قربت میں گزارا۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے شاہدہ حسن کا کہنا تھا کہ پروین فطری طور پر علم پسندی کی طرف مائل تھیں۔ شاہدہ حسن کے بقول،’’ پروین نے جس شدت اور سچائی کے ساتھ شاعری میں اپنی شخصیت اور جذبات کا اظہار کیا وہ آپ بیتی سے جگ بیتی بن گیا۔‘‘

شاہدہ حسن نے پروین کی شاعری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مزید کہا،’’پروین کی شاعری میں جو سادگی اور ترنگ تھی اور جس بیباک لیکن شائستہ انداز میں اُس نے اپنی ذات کا اظہار کیا، اس نے نوجوان لڑکیوں کو بہت متاثر کیا۔‘‘ شاہدہ کی رائے میں پروین کی شاعری عورت کے حوالے سے سماجی رویوں کے خلاف ایک خود دار اور با شعور عورت کا ردِ عمل ہے۔

 پروین شاکر اپنی نجی زندگی میں بظاہر ناکام رہیں۔ چھوٹی عمر کے ایک جذباتی تعلق میں ناکامی کے بعد اُن کے والدین نے پروین کی شادی اُن کے کزن سے کر دی تھی۔ جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے اورشادی سے کچھ عرصہ پہلے ہی ڈھاکہ سے کراچی آئے تھے۔

شاہدہ حسن نے بتایا کہ شادی کے بعد شروع کا کچھ عرصہ تو پروین بہت خوش رہیں لیکن پھر اُن کی ازدواجی زندگی میں مسائل پیدا ہونے لگے اور بالآخر یہ رشتہ بھی ٹوٹ گیا۔

Pakistan - Shahida Hasan Poetess (Privat)

معروف شاعرہ شاہدہ حسن

پروین کی شاعری کے موضوعات میں ایک اہم موضوع اُن کا بیٹا مراد بھی رہا

مجھے تیری محبت نے عجب اک روشنی بخشی

میں اس دنیا کو اب پہلے سے بہتر دیکھ سکتی ہوں

محبت میں ناکامی کا دکھ اُن کے اشعار میں جا بجا محسوس ہوتا ہے۔

ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا

میں نے تو ایک بات کی، اس نے کمال کر دیا

اور

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

پروین نے ایک بار کہا تھا

مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے

لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

چھبیس دسمبر کو  پاکستان کی اس معروف شاعرہ کی برسی منائی جاتی ہے اور اس موقع پر سُخن و ادب سے شوق رکھنے والے افراد پروین شاکر کو نہ صرف یاد کرتے ہیں بلکہ اُن کے کلام کی خوشبو محسوس کرنے اور اسے پھیلانے کے لیے خصوصی نشستوں کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ 

DW.COM