1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پرویز مشرف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

پاکستان میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس کی سماعت کرنے والی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں۔

default

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج رانانثار نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے پیش کی گئی چارج شیٹ،سرکاری وکیل کے دلائل اور گواہوں کے بیانات سننے کے بعد جنرل مشرف کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں انیس فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

ہفتے کے روز سماعت کے دوران سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار علی نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف ان دنوں لندن میں مقیم ہیںاور ایف آئی اے نے تفتیش کے حوالے سے انہیں ایک سوالنامہ بھجوایا تھا جس کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

Ermittlungen zu Attentat auf Benazir Bhutto durch Scotland Yard

بینظیر بھٹو کا قتل 27 دسمبر 2007 میں راولپنڈی میں ایک ریلی سے خطاب کے دوران ہوا تھا

سرکاری وکیل نے عدالت سے استدعا کی اس قتل کے مقدمے کی تحقیقات مکمل کرنے کے لیے پرویز مشرف کی گرفتاری ضروری ہے لہذا ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا ئیں۔ اس موقع پر انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ اور وزارت داخلہ میں قائم کرائسز مینجمنٹ سیل کے سابق سربراہ بریگیڈئر (ر) جاوید اقبال چیمہ نے عدالت میں اپنے بیانات قلمبند کروائے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق بریگیڈئیر اعجاز شاہ نے اپنے بیان میں انکشاف کیا ہے کہ سابق صدر جنرل مشرف کو بے نظیر قتل کی سازش کا پہلے سے علم تھا ۔انہوں نے کہا کہ ستائیس دسمبر کو جب بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا تو وہ اس کے فوری بعد جنرل مشرف کی سربراہی میں ہونے والے اعلی سطحی اجلاس میں بھی شریک تھے جس میں فیصلہ کہ بریگیڈیئر جاوید چیمہ کو حکومتی ترجمان بنا کر ایک پریس کانفرنس میں بینظیرکے قتل کا اعلان کیا جائے۔ اس موقع پر بریگیڈئیر جاوید اقبال چیمہ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں بے نظیر کے قتل کے بعد پریس کانفرنس میں بیت اللہ محسود اور ایک مولوی کے درمیان گفتگو کی آڈیو ٹیپ پیش کرنے کا حکم جنرل مشرف نے دیا تھا۔

Pakistan Grab von Banazir Bhutto

بینظیر بھٹو کی آخری آرامگاہ

جنرل(ر)پرویز مشرف کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے جانے پر ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے وزیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ '' عدالت نے جو وارنٹ جاری کیے ہیں اس سلسلے میں حکومت ہر طرح کے تعاون کے لئے تیار ہے اور اگر جنرل مشرف کی گرفتاری کے لئے انٹرپول سے رابطہ کرنے کا کہا گیا تو حکومت عدالتی حکم کی تعمیل کرے گی۔''

ادھر ملک کے مختلف حلقوں میں جنرل مشرف کی وارنٹ گرفتار ی کو بے نظیر قتل کیس کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اب جنرل مشرف کو خود یا اپنے وکیل کے ذریعے عدالت کے رو برو پیش ہونا پڑے گا اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو پھر عدالت انہیں اشتہاری قرار دے کر ایف آئی اے کو انٹرپول سے ریڈ وارنٹ حاصل کر کے جنرل مشرف کو بیرون ملک سے گرفتار کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔

دوسری جانب جنرل مشرف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہیں محض سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جنرل مشرف کے مشیر بیرسٹر محمد علی سیف کے مطابق عدالت کے سامنے جو تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی اور استغاثہ نے جوطریقہ اختیار کیا اس میں بہت سے قانونی سقم موجود ہیں۔ بیرسٹر سیف کے مطابق جنرل مشرف فی الحال وطن واپس نہیںآئیں گے۔ البتہ جب وہ وطن واپس آئے اپنے اوپر مختلف عدالتوں میں قائم مقدمات کا سامنا کریں گے۔

اس سے قبل جنرل مشرف مختلف بیانات اور انٹرویو میں بینظیر بھٹو قتل کیس میں ملوث ہونے سے انکار کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ وہ اس مقدمے کے سلسلے میں کسی بھی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہونگے۔

Pakistan Wahlen Wahlkampf Partei von Benazir Bhutto

پیپلز پارٹی کے حامی بینظیر کے قاتل کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کر رہے ہیں

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر خالد قریشی کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی ٹیم نے گزشتہ پیر کو عدالت میں جو عبوری چالان پیش کیا تھا اس میں جنرل مشرف کو بینظیر قتل سازش میں ملوث قرار دے کر ان کا نام ملزمان کی فہرست میں شامل کیاگیا تھا۔

دریں اثنا پیپلز پارٹی کی قیادت کو اپنی جماعت کے اندر سے اور عوام، ذرائع ابلاغ اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تین سال گزر جانے کے باوجود بینظیر کے قاتلوں کا تعین نہ کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ مبصرین کے مطابق اسی دبائو کی بنیاد پر پیپلز پارٹی حکومت اب بینظیر کے قاتلوں کی گرفتاری میں متحرک نظر آ رہی ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ آئندہ انتخابات میںبھی بینظیر بھٹو کے قاتلوں کی گرفتاری ان کے لئے ایک اہم سوالیہ نشان ہو گی۔

رپورٹ: شکور رحیم،اسلام آباد

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس