1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پرویز مشرف کی واپسی، سن 2013 میں

پاکستان کے جلاوطن سابق صدر پرویز مشرف نے ممکنہ گرفتاری کے خطرے کے باوجود اگلے سال پاکستان واپس آنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ سن دو ہزار تیرہ میں ہونے والے الیکشن میں حصہ لیں گے۔

default

جمعہ کے روز سابق صدر پرویز مشرف کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ آئندہ برس 23 مارچ کو لاہور ائیر پورٹ پر اتریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دو ہزار تیرہ میں ہونے والے الیکشن میں حصہ لیں گے۔

پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں جنرل مشرف کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے ہیں اور پاکستان آمد پر ممکنہ طور پر انہیں گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔

دبئی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’میری گرفتاری کا خطرہ موجود ہے لیکن میں ملک کی خاطر یہ خطرہ مول لینے کو تیار ہوں‘۔

Pervez Musharraf

پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں جنرل مشرف کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے ہیں

انہوں نے مزید بتایا کہ وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے کسی سے بھی کوئی ڈیل نہیں کر رہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سابق صدر جب اقتدار سے علیٰحدہ ہوئے تھے، تو پاکستانی عوام میں وہ انتہائی نامقبول تھے اور ابھی بھی پاکستان میں ان کے حمایتی افراد کی تعداد بہت کم ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی شک وشبعے کا اظہار کیا کہ پاکستانی فوج کے افسروں کو اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں علم تھا۔ انہوں نے بتایا، ’مجھے اس بات پر شک ہے کہ پاکستانی افسروں کو اسامہ کے ٹھکانے کا علم تھا۔ افسروں کو ہر تین سال بعد تبدیل کر دیا جاتا ہے۔‘

جنرل مشرف نے 1999ء میں فوجی بغاوت کرتے ہوئے حکومت سنبھالی تھی۔ اس وقت مسلم لیگ ن کے رہنما نواز شریف برسر اقتدار تھے۔ اس فوجی بغاوت کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ بعدازاں چند عرب ملکوں کی مداخلت پر شریف برادارن اور ان کے اہلخانہ کو سعودی عرب جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

مختلف حلقوں کی طرف سے ملک میں ہونے والے خود کش حملوں کا ذمہ دار بھی مشرف کو قرار دیا جاتا ہے۔ اسلام آباد میں لال مسجد میں ہونے والے آپریشن کے بعد ملک بھر میں خودکش حملوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ سابق جنرل مشرف 2008ء میں شدید عوامی دباؤ کے بعد، صدارت سے استعفیٰ دیتے ہوئے دبئی اور لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

رپورٹ : امتیاز احمد

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM