1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پرویز مشرف کا دور حکومت

کئی سالوں پر محیط نعروں ،مطالبوں اوراحتجاجی مظاہروں کے بعد پاکستانی فوج کے سپہ سالار اور ملک کے صدر پرویز مشرف بالاخر اقتدار کے ایوانوں سے رخصت ہو گئے۔

default

جنرل(ر)پرویز مشرف گیارہ اگست انیس سو تنتالیس کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے نہر والی حویلی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کراچی سے حاصل کی فوج میں چھیالیس سال خدمات سرانجام دیں۔ نو سال چیف آف آرمی سٹاف بھی رہے
سن انیس سو ننانوے میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر برسراقتدارآے اورفوجی وردی میں صدر بن گئے۔ اٹھائیس نومبر سن دو ہزار آٹھ کو عوامی دباو پر انھوں نے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیا۔ اس موقعے پرانہوں نے فوج کےساتھ اپنی گہری وابستگی کا ذکر کیا اور ان پر کئی مرتبہ قاتلانہ حملے بھی ہوئے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پرویز مشرف کا زوال اس وقت شروع ھوا جب نو مارچ سن دو ہزار سات کو ا نھوں نے عدلیہ کو برطرف کر دیا تین نومبر سن دو ہزار آٹھ کو انھوں نے ملک میں ایممرجنسی لگا دی اس حوالے سے قوم سے خطاب کرتے ہوے ان کا کہنا تھا کہ وہ ضروری ھو گیا تھا اور وہ ہرمشکل کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔ لیکن ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کی شہرت رکھنے والے یہ کمانڈو صدراٹھارہ اگست سن دو ہزار اآٹھ کو اپنا یہ ریکارڈ برقرار نہ رکھ سکے۔
پرویز مشرف کے حامی خواتین اقلیتوں مقامی، حکومتوں اور اقتصادی امور کے حوالے سے
ان کی پالیسیوں کو سراہتے رہے ہیں لیکن ان کے مخالفین جمہوری اداروں کی پامالی عدلیہ کی معزولی،ایمرجنسی کے نفاذ بلوچستان پر فوج کشی، لال مسجد سائلنس آپریشن اور امریکہ کی حد سے زیادہ تابعداری کو ہدف تنقید بناتے رھے ہیں۔