1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’پرنس‘ بھی رخصت، ایک اور بڑے فنکار کا دنیا سے کُوچ

امریکی پاپ سٹار ’پرنس‘ کا ستاون برس کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔ اُن کی رحلت کے ساتھ ہی مغربی موسیقی کی دنیا اپنے ایک اور بڑے فنکار سے محروم ہو گئی ہے۔ ’پرنس‘ گلوکار بھی تھے، موسیقار بھی اور پروڈیوسر بھی۔

USA Sänger Prince in dem Film Under the Cherry Moon

امریکی پاپ سٹار ’پرنس‘ کا اصل نام پرنس راجرز نیلسن تھا، سات جون 1958ء کو پیدا ہونے والے پرنس نے 1978ء میں موسیقی کی دنیا میں قم رکھا تھا

’پرنس‘ امریکی ریاست منیسوٹا میں شہر منیاپولس کے قریب اپنی رہائش گاہ پر جمعرات اکیس اپریل کو مُردہ پائے گئے۔ ابھی ایسی کوئی معلومات دستیاب نہیں کہ اس فنکار کی موت کا سبب کیا تھا تاہم شوبز کی شخصیات کے بارے میں خبریں نشر کرنے والی ایک مشہور وَیب سائٹ کے مطابق تقریباً ایک ہفتہ قبل ’پرنس‘ مبینہ طور پر حد سے زیادہ مقدار میں ایک افیون آمیز دوا کے استعمال کے سبب زیرِ علاج رہے تھے۔ تب اُنہیں امریکا کے اندر ہی اپنا سفر منقطع کرتے ہوئے اپنا طیارہ اُتارنا پڑا تھا۔ ڈاکٹر ابتدائی طبی امداد کے بعد اُنہیں چوبیس گھنٹے کے لیے ہسپتال ہی میں رکھنا چاہتے تھے تاہم یہ فنکار تین گھنٹے بعد ہی وہاں سے رخصت ہو گیا۔

USA Sänger Prince - Konzert

ایک میٹر ساٹھ سینٹی میٹر سے بھی کم قد کے حامل ’پرنس‘ جب اسٹیج پر پرفارم کرتے تھے تو پرستاروں کی آنکھ کا تارا بن جاتے تھے

’پرنس‘ کے پرستاروں، ساتھیوں اور سیاستدانوں نے اس فنکار کے اچانک انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ’پرنس‘ کو ایک ایسی شخصیت کے طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے، جو منفرد اختراعی صلاحیتوں کی مالک تھی۔ امریکی صدر باراک اوباما نے اس فنکار کو ایک ’تخلیقی آئیکون‘ قرار دیا ہے۔ اوباما کے مطابق بہت کم فنکاروں نے اپنی صلاحیتوں کے ساتھ ’اتنے زیادہ انسانوں کے دلوں کو چھُوا ہو گا‘۔

پوپ اسٹار میڈونا نے کہا کہ ’پرنس‘ صحیح معنوں میں تخیلاتی صلاحیتوں کے مالک ایک ایسے فنکار تھے، جنہوں نے موسیقی کی دنیا کو بدل ڈالا۔ راک گلوکار مِک جَیگر کے مطابق ’پرنس‘ ایک ’انقلابی فنکار‘ تھا، جو لامحدود صلاحیتوں کا حامل تھا۔

بتایا گیا ہے کہ کسی شخص نے پولیس اور امدادی ٹیموں کو فون کر کے بُلوایا تھا۔ جب یہ ٹیمیں موقع پر پہنچیں تو اُنہوں نے ’پرنس‘ کو ایک لفٹ کے اندر مردہ پڑے پایا۔ ڈاکٹروں نے ’پرنس‘ کی زندگی بچانے کے لیے متعدد حربے آزمائے لیکن بالآخر مقامی وقت کے مطابق دن دَس بج کر سات منٹ پر ’پرنس‘ کو مردہ قرار دے دیا گیا۔ ’پرنس‘ کی موت کے اسباب جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور اسی سلسلے میں جمعے کے روز ’پرنس‘ کا پوسٹ مارٹم بھی کیا جا رہا ہے۔

ایک میٹر ساٹھ سینٹی میٹر سے بھی کم قد کے حامل ’پرنس‘ کو عالمی شہرت اَسّی کے عشرے میں حاصل ہوئی تھی اور 1984ء میں اُن کے گیتوں کے البم ’پرپل رین‘ کو آج بھی پوپ موسیقی کی تاریخ کے بہترین البمز میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف گلوکار تھے بلکہ گٹار اور پیانو سمیت مختلف ساز بجانے میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ اپنے تقریباً چار عشروں پر پھیلے ہوئے کیریئر کے دوران آسکر اور گریمی سمیت اُنہوں نے متعدد اعزازات بھی اپنے نام کیے۔