1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

پرندوں کی ایک قسم سونگھنے کی حس سے سمت کا تعین کرنے پر قادر

ايک نئے مطالعے ميں يہ بات سامنے آئی ہے کہ سمندروں کا طويل سفر کرنے والے پرندوں کی کم از کم ايک قسم سمت کے تعين کے ليے اپنی سونگھنے کی حس استعمال کرتی ہے۔

سونگھنے کی حِس کی عارضی طور پر عدم موجودگی کے سبب ’اسکوپولی شيئرواٹر‘ نامی پرندے ہسپانوی جزيرے ميیورکا سے فوراج جاتے وقت ايک مقام پر اپنا راستہ بھول گئے تھے۔ يہ انکشاف ’سائنٹفک رپورٹس‘ نامی جريدے ميں کيا گيا ہے، جس کے ليے محققين نے پرندوں کے ايک گروپ پر نظر رکھی تھی ۔ خوراک اکٹھی کرنے کے مقصد سے اس نسل کے پرندے دو سو کلوميٹر کا سفر طے کرتے ہوئے ہسپانوی خطے کاتالونيہ کے ساحلی علاقوں تک تو باآسانی پہنچ گئے تاہم واپسی کے وقت انہيں سمت کے تعين ميں دقّت پيش آئی۔

يونيورسٹی آف آکسفورڈ ميں ڈاکٹريٹ کے طالب علم اور جائزے کے مرکزی مصنف ٹم گوئلفورڈ کے مطابق زير نگرانی پرندے سمت کے احساس کے بغير بس ايک طرف اُڑتے رہے۔ اس ضمن ميں اس سے قبل کيے جانے والے تجربات ميں بھی يہی ديکھا گيا کہ سونگھنے کی صلاحيت کی عارضی عدم موجودگی کے سبب پرندے سمت کا تعين کرنے سے قاصر رہے۔

تجربے کے ليے پرندوں کے گروپ کو تين حصوں ميں تقسيم کيا گيا تھا۔ ايک گروپ کے پرندوں کو ان کی ناک کے ذريعے ’زنک سلفيٹ‘ ديا گيا، جس سے کچھ وقت کے ليے ان کی سونگھنے کی صلاحيت ختم ہو گئی۔ ايک اور گروپ ميں شامل پرندوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے مگر طاقتور مقناطيس لگائے گئے۔ يہ بھی مانا جاتا ہے کہ ہجرت کرنے والے پرندوں کی کئی اقسام زمين کی ميگنیٹک فيلڈ کو بروئے کار لاتی ہيں۔  ’اسکوپولی شيئرواٹر‘ کے تيسرے گروپ کو ايسے ہی بغير کسی ترميم کے چھوڑ ديا گيا۔ تينوں گروپوں ميں شامل پرندوں پر جی پی ايس ٹريکر لگائے گئے تھے۔

DW.COM