1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

پرس کی بجائے ادائیگی بھی اب موبائل فون سے

معروف انٹرنیٹ کمپنی گوگل نے جمعرات کے روز اپنا ’موبائل والیٹ پلیٹ فارم‘ متعارف کرایا ہے۔ اس نظام کے ذریعے صارفین ریٹیل اسٹورز پر ادائیگی محض اپنے موبائل فون کو کیش کارڈ پڑھنے والے ٹرمینل کے سامنے لہرا کر کرسکیں گے۔

default

یہ نظام گوگل کا اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے والے معروف موبائل فونز میں دستیاب ہوگا۔ گو کہ موبائل فونز میں باقاعدہ طور پر اس سسٹم کا آغاز رواں برس اگست میں کیا جائے گا، تاہم سان فرانسسکو اور نیویاک کے لوگ وسیع آزمائشی پروگرام کے تحت اس کا استعمال پہلے ہی شروع کر دیں گے۔

گوگل کی نائب صدر برائے کامرس Stephanie Tilenius نے اس نئے سسٹم کو متعارف کرانے کے لیے منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’ہم تجارت اور خرید و فروخت کے حوالے سے ایک نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں جہاں ہم آن لائن اور آف لائن کو ایک ہی جگہ لے آئیں گے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب آپ کا فون ہی دراصل آپ کا پرس بن جائے گا، آپ محض اسے چھوئیں، قیمت ادا کریں اور آگے بڑھ جائیں۔

NFC فی الحال صرف گوگل کے نیکسس ایس فون میں نصب ہے

NFC فی الحال صرف گوگل کے نیکسس ایس فون میں نصب ہے

یہ پروگرام دراصل ایک خاص چِپ استعمال کرتا ہے جسے ’نیئر فِیلڈ کیمیونیکیشن چِپ‘ NFC کہا جاتا ہے۔ اس چِپ کے ذریعے دو مختلف ڈیوائسز کے درمیان بہت کم فاصلے سے تھوڑی مقدار میں ڈیٹا ٹرانسفر کیا جاسکتا ہے، جیسےکریڈٹ کارڈ یا پے منٹ کارڈ کی معلومات وغیرہ۔

NFC فی الحال صرف گوگل کے نیکسس ایس فون میں نصب ہے۔ تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ رواں برس کے آخر تک یہ چِپ اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم رکھنے والے تمام اسمارٹ فونز کا ایک بنیادی حصہ بن جائے گی۔

گوگل کو امید ہے کہ اس نئی پیش رفت کی بدولت اسے موبائل کے ذریعے ادائیگیوں کے حوالے سے جاری دوڑ میں سبقت حاصل ہوجائے گی۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ سال 2014ء تک یہ سیکٹر 245 بلین ڈالرز تک پہنچ جائے گا۔

معروف کمپیوٹر ساز ادارے ایپل کی جانب سے بھی جلد ہی ایسا ہی ایک سسٹم متعارف کرائے جانے کی توقع ہے، جو اس کمپنی کے تیار کردہ آئی فون پر کام کرے گا۔ آن لان ادائیگی کے حوالے سے مشہور پے پال سمیت کئی دیگر کمپنیاں بھی اس حوالے سے نئی جدتیں متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس