1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پرتگال کے صدر نئی مدت کے لئے الیکشن جیت گئے

پرتگال کے صدر اینی بال کاواکُو سلوا نئی مدت کے لیے منتخب ہو گئے ہیں۔ انہیں تقریباﹰ 53 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں جبکہ حکمران سوشلسٹ پارٹی کے ان کے حریف مانوئیل الیگرے کو ملنے والوں ووٹوں کا تناسب 20 فیصد رہا ہے۔

default

پرتگال کے صدر اینی بال کاواکُو سلوا

پرتگال میں اتوار کو صدارتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے، جس کے بعد 98 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر اینی بال کاواکُو سلوا کی جیت واضح ہو گئی۔ اتوار کو ووٹنگ کے بعد اینی بال کاواکُو سلوا نے کہا، ’میرے خیال میں پرتگال کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ یہاں مسائل کے حل کے سیاسی استحکام ہو۔‘

صدارتی انتخابات کے لیے ہونے والی ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ 50 فیصد بتایا جاتا ہے، جو بہت کم ہے۔ حکام نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ شہریت کے نئے کارڈ سے متعلق مسائل حل نہیں کیے جاسکے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ بیشتر افراد ووٹ نہیں ڈال سکے۔ پرتگال میں یہ انتخابات ایسے وقت ہوئے ہیں، جب ملک کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔

اینی بال کاواکُو سلوا دائیں بازو کی اپوزیشن سوشل ڈیموکریٹس کے رکن ہیں اور ملک کو درپیش مالیاتی بحران کے تناظر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

Portugal Wahlen 2011 Manuel Alegre

مانوئیل الیگرے

اینی بال کاواکُو سلوا نے سوشلسٹ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بچت پروگرام کی حمایت کی تھی۔ اس منصوبے کا مقصد بجٹ خسارے کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ آئرلینڈ اور یونان کی طرح عالمی مالیاتی پیکج لینے کی نوبت سے بچنا تھا۔

گزشتہ جمعہ کو انتخابی ریلی کے موقع پر کاواکُوسلوا نے ملک کو درپیش مالیاتی بحران کے تناظر میں عوام پر زور دیا تھا کہ وہ ووٹ ضرور ڈالیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ کوئی بھی اُمیدوار اتوار کے انتخابات میں 50 فیصد تک ووٹ حاصل نہ کرسکا تو یہ صورت حال بہت نقصان دہ ہو گی۔

ان کاکہنا تھا کہ غیریقینی صورت حال شرح سود میں اضافے کا باعث بنے گی، جس سے مالیاتی بحران اور بھی شدید ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ پرتگال میں صدر کا عہدہ علامتی ہے، تاہم اس کے باوجود انہیں یہ حق حاصل ہے کہ پارلیمنٹ سے مطمئن نہ ہونے پر حکومت تحلیل کر کے انتخابات کا اعلان کر دیں۔ پرتگال میں پارلیمانی انتخابات 2013ء میں ہوں گے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس