1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پرتگال کے انتخابات ، اپوزیشن کی جیت

یورپی ملک پرتگال کے پارلیمانی انتخابات میں اپوزیشن سوشل ڈیموکریٹک پارٹیPSD نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ وزیر اعظم یوزے سوکراٹیس نے شکست کا اعتراف کرتے ہوئے پارٹی سربراہ کے عہدے سے استعفٰی دے دیا ہے۔

default

سیاسی جماعت PSD کے سربراہ Passos Coelho

پرتگال میں اتوار کو منعقد ہوئے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کے سرکاری نتائج کے مطابق اپوزیشن پارٹی نے 39 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ حکمران سوشلسٹ پارٹی کو28 فیصد ووٹ ملے۔ ابتدائی سرکاری نتائج کے مطابق یہ واضح ہوگیا ہے کہ اب PSD قدامت پسند جماعت CDS-PP کے ساتھ مل کرحکومت بنا سکتی ہے۔

سوشل ڈیموکریٹس کو 105 نشستوں پر کامیابی ہوئی جبکہ CDS نے 24 نشستیں اپنے نام کیں۔ دوسری طرف حکمران سیاسی جماعت کو 74 نشستوں پر کامیابی ملی، جو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں 24 کم ہیں۔ پرتگال کی پارلیمان میں کل نشستوں کی تعداد 230 ہے۔

ان انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کرنے والی سیاسی جماعت PSD کے سربراہ Passos Coelho نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کی جماعت ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے میں کامیاب ہو گی۔’ میں بھر پور کوشش کروں گا کہ ایک اکثریتی حکومت بنائی جائے، جو آئندہ چار برس کے دوران ملک کو اقتصادی استحکام کی راہوں پر گامزن کر سکے‘۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت ملک میں بچتی منصوبوں پر عملدرآمد کرے گی۔

Portugal / Wahl / Jose Socrates / NO-FLASH

وزیر اعظم یوزے سوکراٹیس نے شکست کا اعتراف کر لیا ہے

پرتگال نے ملکی اقتصادیات کی ابتر صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے یورپی یونین اور آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج لے رکھا ہے، جس کے بدلے میں لزبن حکومت ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر بچتی اقدامات کرنے کی پابند ہے۔ اسی اقتصادی بحران کے نتیجے میں رواں برس مارچ میں لزبن حکومت گر گئی تھی۔

ابتدائی سرکاری نتائج کے سامنے آنے کے بعد Coelho نے کہا کہ پرتگالی عوام نے نہ صرف ان کی سیاسی جماعت میں اعتماد ظاہرکیا ہے بلکہ انہیں مستقبل میں ایک امید بھی نظر آ رہی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انتخابات کے نتائج سے واضح ہو گیا ہے کہ پرتگالی عوام کی ایک بڑی تعداد گزشتہ چھ برسوں سے اقتدار سنبھالے ہوئی سوشلسٹ پارٹی کو ملکی اقتصادی بحران کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔

وزیراعظم سوکراٹیس کی حکومت ملک میں بچتی اقدامات پر عملدرآمد کرنے میں ناکام ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں سوکراٹیس مارچ میں وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ تاہم نئی حکومت سازی تک وہ ملک کے نگران وزیر اعظم کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے ان انتخابات میں شکست تسلیم کرتے ہوئے پارٹی سربراہ کے عہدے سے بھی استعفٰی دے دیا ہے۔

دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی اعتدال پسند سیاسی اتحاد کے حکومت میں آنے کے بعد ملکی اقتصادیات میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔ تاہم اس یورپی ملک کو اب بھی بے روزگاری کے حوالے سے شدید بحران کا سامنا ہے جبکہ اندازوں کے مطابق رواں اور آئندہ برس کے دوران ملکی معیشت میں دو فیصد کی کمی متوقع ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس