1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پرتگال میں ہڑتال جاری، ہرطرف"ہو" کا عالم

پرتگال میں آج ملک گیر سطح پر عوامی ہڑتال جاری ہے۔ گزشتہ 22 برسوں کے دوران یہ سب سے بڑی ہڑتال ہے۔ تقریبا تمام پروازیں منسوخ، سڑکیں بلاک، ٹرینیں اور بندرگاہیں بند کر دی گئی ہیں۔

default

حکومتی بچتی اقدامات کے خلاف پرتگال میں بدھ کے روز ہونے والی ہڑتال کے باعث عوامی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ پرتگال حکومت کے بجٹ کا خسارہ اس وقت مجموعی طور پر 7.3 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ لزبن حکومت نے ایک بچتی پروگرام شروع کیا تھا، جس کا مقصد بجٹ کے خسارے کو4.6 فیصد تک کم کرنا ہے۔ اپریل کے مہینے میں پرتگال کے وزیر خزانہ Teixeira dos Santos کا کہنا تھا۔ " ہم طے شدہ منصوبوں پرعمل درآمدکریں گے۔ ہم ایک واضح اشارہ دینا چاہتے ہیں کہ ہم اقتصادی استحکام کے پروگرام کے لئے تیزی سے کام کر رہے ہیں اور اس پرعمل کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔"

پرتگال کی یورپی یونین میں شمولیت کے بعد بہت ساری دوسری کمپنیوں کے ساتھ ساتھ یورپی کمپنیوں نے بھی پرتگال کا رخ کیا تھا، جس وجہ سے اس کی معیشت تیزی سے مضبوط ہوئی تھی۔ کمپنیوں کی پرتگال میں سرمایہ کاری کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہاں پر تنخواہیں اور ٹیکس کم ادا کرنے پڑتے تھے۔

Portugal Generalstreik Demonstranten

لزبن میں سرکاری ملازمین احتجاج کرتے ہوئے

لیکن گزشتہ دس برسوں سے مختلف ممالک میں مقابلہ بازی بڑھتی جا رہی ہے۔ کئی ایسے ممالک ہیں، جہاں تنخواہیں اور ٹیکس پرتگال کی نسبت بھی کم ادا کرنے پڑتے ہیں اور بڑی بڑی فرمیں اور کمپنیا ں وہاں کا رخ کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے پرتگال میں بے روزگاری کی شرح 10 فیصد تک بڑھ چکی ہے اور بجٹ کا خسارہ بڑھ کر 7.3 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ بجٹ کا خسارہ کم کرنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بھی براہ راست متاثر ہوں گی اور نئے ٹیکس بھی لگائے جائیں گے۔

ان اقدامات کے بارے میں پرتگال کے وزیرخزانہ کا کہنا تھا۔" ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ پرتگالی معیشت پر بین الااقوامی اداروں کا اعتماد دوبارہ بحال ہوجائے۔"

لیکن آج بڑے پیمانے پر ہونے والی عوامی ہڑتال بین لااقوامی اداروں کا اعتماد بحال کرنے کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے۔ ملکی ہوائی اڈوں کی تقریبا تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ دارالحکومت لزبن میں تمام ٹرینیں بند پڑی ہیں۔ اسکولوں میں چھٹی کردی گئی ہے اور ہسپتالوں میں صرف ایمرجنسی سروس جاری ہے۔ جبکہ اس ہڑتال سے بینکنگ انڈسٹری اور میڈیا بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM