1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پرتگال میں عام انتخابات کے لیے پولنگ

جنوب مغربی یورپی ملک پرتگال میں آج اتوار کے روز عوام پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ عوامی جائزوں کے مطابق قدامت پسندوں کو حکمران سوشل ڈیموکریٹس کے مقابلے میں قدرے برتری حاصل ہے۔

default

بحران زدہ معیشت کے شکار پرتگال میں 78 بلین ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کو ان انتخابات میں مرکزی نکتہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حتمی انتخابی جائزوں میں وزیراعظم Jose Socrates اور ان کی سوشل ڈیموکریٹ جماعت کو 31 فیصد جبکہ ان کے مقابلے میں قدامت پسندوں کو 36 فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے۔

انتخابی مبصرین کے مطابق سوشل ڈیموکریٹس 230 نشستوں پر مشتمل پارلیمان میں متعدد سیٹوں سے محروم ہو جانے کے باوجود ماضی میں تیسری سب سے بڑی جماعت CDS-PP کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت قائم کر سکتے ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹس پرتگال میں سن 2005ء سے برسر اقتدار ہیں۔

Portugal / Wahl / Jose Socrates

پرتگالی وزیراعظم کو انتخابات میں سخت مقابلے کا سامنا ہو گا

انتخابات سے ایک روز قبل ہفتے کا دن "Day of reflection" یا یوم عکس قرار دے کر ہر طرح کے جلسے جلوس اور سیاسی اجتماع پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ ہفتے کو دارالحکومت لزبن کے مرکزی چوک میں ’جمہوریت پر بحث‘ کے لیے جمع ہونے والے متعدد نوجوانوں میں سے پولیس نے تین کو حراست میں لے لیا جبکہ اس چھوٹے سے گروپ کے قبضے سے بینر اور پوسٹر تحویل میں لے لیے گئے۔

پرتگال میں تینوں بڑی جماعتیں رواں برس مئی میں معاشی بحران سے نکلنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور یورپی یونین کی جانب سے ہنگامی مالیاتی پیکج پر متفق ہوئیں تھیں۔ اس پیکیج کے تحت پرتگال کو اب بڑے پیمانے پر بچتی اصلاحات کرنا ہیں، جن میں حکومتی اخراجات میں کمی اور عوام شعبے میں ملازمتوں کی تعداد کم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں، تاہم یہ جماعتیں ابھی تک اس بچتی پیکج کے اطلاق کے لیے کسی متفقہ لائحہ عمل تک نہیں پہنچ پائی ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ بھی ان انتخابات میں ووٹروں کے رجحان کا تعین کرے گا۔ اپریل میں پرتگال میں بے روزگاری کی شرح 12 اعشاریہ چھ فیصد ریکارڈکی گئی تھی۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس