1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پرتگال، شامی مہاجرین کے پکائے کھانے مقامی لوگوں میں مقبول

پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں شامی مہاجرین کے ایک ریسٹورنٹ کے باہر لوگوں کی لمبی قطاریں  شامی کھانوں کے لیے لوگوں کی پسندیدگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ ریستوران اس ملک میں ان پناہ گزینوں کے انضمام کا احسن ذریعہ بھی ہے۔

پرتگال کے دارالحکومت کے پڑوس میں مقبول علاقے آری یوس میں ’میزے‘ نامی یہ ریستوران شامی مہاجرین چلا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ اس ریستوران کا افتتاح ہونے کے بعد جو گاہک یہاں آئے ہیں اُن میں لیونور روڈرِگ بھی ایک ہیں۔ روڈرِگ کو یہاں کا ماحول اور مزےدار کھانے بہت پسند آئے ہیں۔

 روڈرِگ نے مترجم کے ذریعے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا،’’ چکن کباب، حمس سب کچھ شاندار تھا۔ میں یقینی طور پر آئندہ ہفتے بھی یہاں آؤں گا۔ یہ جگہ زبردست ہے اور مہاجرین کو پرتگالی معاشرے میں ضم کرنے کا یہ بہت اچھا طریقہ ہے۔‘‘

یہ ریستوران ایک پینتالیس سالہ سابق پرتگالی صحافی فرانسیسا گورژاؤ کی سن 2016 میں مہاجرین کی مدد کے لیے قائم کی گئی تنظیم’ پاؤ آ پاؤ‘ کے تحت اٹھائے گئے اقدام کا نتیجہ ہے۔ فنڈ اکٹھا کرنے کی اس مہم میں گورجاؤ نے قریب تئیس ہزار یورو جمع کیے تھے۔

گورژاؤ نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا،’’ میں نے جیسے ہی شامی مہاجرین کی مدد کے لیے ریستوران بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا، لوگوں نے بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیا۔‘‘

ریستوران میں درجن بھر شامی تارکین وطن ملازمت کرتے ہیں۔ یہاں کام کرنے والے ایک اکیس سالہ شامی پناہ گزین رفعت کا ماننا ہے کہ شام سے ہجرت کرتے وقت پرتگال اُس کی محبوب منزل نہیں تھا لیکن اب وہ یہاں بہت خوش ہے۔ وہ اپنی دو بہنوں اور والدہ کے ساتھ یہاں رہتا ہے۔ رفعت نے اے ایف پی کو بتایا،’’ ہم یہاں بہت خوش ہیں۔ پرتگالی بہت روادار لوگ ہیں اور ہمیں یہاں کوئی مسئلہ نہیں۔ میری دونوں بہنیں حجاب کے ساتھ ساحل سمندر پر جاتی ہیں اور انہیں کوئی پریشان نہیں کرتا۔‘‘

میزے ریستوران میں گاہکوں کو روایتی شامی کھانے جن میں بکلاوہ، یالانجی، اور فاتوش سلاد شامل ہیں، پیش کیے جاتے ہیں لیکن ابھی ان پناہ زینوں کو پرتگال میں ریستورانوں میں کام کرنے کی شرائط سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔

سن 2015 میں یورپ کو درپیش مہاجرین کے بڑے بحران کے بعد کئی سابقہ کمیونسٹ یورپی ریاست مہاجرین کے اپنے ملکوں میں قبولیت کے حوالے سے مزاحم رہی ہیں۔ لیکن پرتگال نے اس رویے کے مخالف سمت اختیار کی ہے۔

یورپی کمیشن نے یورپی یونین کے تجویز کردہ مہاجرین کی منصفانہ تقسیم کے کوٹے کے تحت پرتگال کو پانچ ہزار تارکین وطن کو اپنے ہاں آباد کرنے کو کہا تھا۔ ان میں شامی، عراقی اور افغان پناہ گزین شامل تھے۔ تاہم اس منصوبے کو بعض یورپی ممالک کی جانب سے پذیرائی نہ ملنے کے بعد گزشتہ سال فروری میں پرتگال نے یورپی کمیشن کو دس ہزار مہاجرین کی اپنے ملک میں آباد کاری کی پیشکش کی تھی۔

 

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات