1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پرتشدد مظاہروں سے عرب حکومتیں پریشان

متعدد عرب حکومتیں جہاں ایک طرف مسلم انتہا پسندوں کے اثر ورسوخ کو ختم کرنے کے لئے سرگرداں دکھائی دے رہی ہیں، وہیں دوسری طرف ان ممالک میں اب مظاہروں کو بھی کسی حد تک برداشت کیا جا رہا ہے۔

default

عرب ممالک میں اس سے قبل ایسا کبھی دکھائی نہیں دیا کہ عوامی احتجاج اس قدر شدید ہو کہ حکومتیں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر سوچ میں پڑ جائیں۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اس کی ایک واضح مثال تیونس کی سڑکوں پر حکومت مخالف مظاہرے کرتے وہ نوجوان ہیں، جن کے خلاف طاقت کا استعمال انہیں منتشر کرنے کے بجائے مزید منظم کرنے کا باعث بنا۔ ایسے ہی مظاہرے حالیہ دنوں میں الجزائر، مصر اور اردن میں بھی نظر آئے۔

Tunesien Demonstration Pressefreiheit Arbeitslosigkeit

حکومت مخالف مظاہرے کا ایک منظر

گزشتہ ہفتے ہزاروں افراد نے اردن کے شہر عمان میں حکومت مخالف مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرین مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلے تھے۔ اس سے قبل حکومت کی طرف سے اس مظاہرے کے سدباب کے لئے اقدامات اٹھائے گئے تھے، تاہم مظاہرین عمان کی سڑکوں پر وزیراعظم سمیر رفاعی کے استعفیٰ کے مطالبات کرتے رہے اور سکیورٹی فورسز کو یہ سب مناظر دیکھنا پڑا۔ دوسری جانب وزیراعظم کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا کہ وہ عوام کے ’احتجاج کے حق‘ کو تسلیم کرتے ہیں۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی طرف سے سخت مالیاتی اصلاحات ملک و قوم کے حق ہی میں کی جا رہی ہیں اور ’ملک دشمن عناصر‘ کو اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

عرب ممالک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث صرف یہ ممالک ہی متاثر نہیں ہوئے ہیں، بلکہ اس کا واضح اثر یورپی ممالک پر بھی پڑا ہے۔ غربت سے پریشان یہ عرب باشندے جنوبی یورپی ممالک سپین اور اٹلی کے علاوہ جرمنی اور بیلجیم کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔

Protest in Tunis

سکیورٹی فورسز عوام کو منتشر کرنے میں مکمل ناکام دکھائی دے رہی ہیں

عرب ممالک میں حکومت مخالف مظاہروں کی ابتدا تیونس سے ہوئی۔ عرب دنیا میں تیونس، عوامی طور پر سب سے کم سیاسی دلچسپی کا حامل تصور کیے جانے کے ساتھ ساتھ انتہائی پرامن خیال کیا جاتا تھا تاہم تیونس کے متعدد شہروں میں نوجوان مظاہرین نے سخت ترین حکومتی اقدامات کے باوجود مظاہرے کیے اور آخرکار اس ملک پر گزشتہ 23 برسوں سے برسراقتدار صدر زین العابدین بن علی کو ملک چھوڑ کر فرار ہونا پڑا۔

الجزائر میں بھی ہزاروں نوجوانوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں مہنگائی کے خلاف زبردست مظاہرے کیے اور ان کا اختتام تب ہوا، جب حکومت نے غذائی اشیاء کی قیمتوں میں زبردست کمی کا اعلان کیا۔

مصر کے ایک آزاد اخبار الشروک کے مطابق تیونس کے نوجوانوں نے عرب دنیا میں یہ شعور بیدار کر دیا ہے کہ وہ اپنی سخت موقف کی حامل حکومتوں کو بھی احتجاج کے ذریعے عوامی مسائل کے حل کی جانب توجہ مبذول کروانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس