1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پراگ میں یورپی سوشلسٹوں کا اجتماع

عالمی مالیاتی بحران اور موسمیاتی تبدیلیوں پر غور کے لئے یورپی سوشلسٹ جماعت کا دو روزہ اجلاس جاری ہے۔

default

چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ میں منعقدہ اس اجلاس کا آج آخری دن ہے جسے ''کاربن فری'' کانگریس کا نام دیا گیا ہے۔ سوشلسٹوں کا دھڑا Party of European Socialists، یورپی پارلیمان میں دوسرا سب سے بڑا گروپ ہے۔ پراگ منعقدہ حالیہ کانگریس کے ایجنڈے پر موسمیاتی تبدیلیوں کا معاملہ سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین کے ستائیس رکن ممالک کی معاشی صورتحال پر بھی غور ہوگا۔ اس کانگریس میں یورپ بھر سے سوشل ڈیموکریٹس، سوشلسٹس اور مزدور تنظیموں کے تقریباً پانچ سو مندوب شریک ہیں۔

پہلے روز ڈنمارک کے چھیاسٹھ سالہ وزیر اعظم راسموسن کو پارٹی سربراہ منتخب کیا گیا۔ وہ اس عہدے کے لئے واحد امیدوار تھے۔

EU Erweiterung Tschechien Stadt Panorama von Prag

اس بار یہ کانگریس چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ میں منعقد ہورہی ہے۔

صدارت کے لئے ووٹ ڈالے جانے سے قبل اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ اس وقت جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کس طرح معاشی تنزلی سے نمٹا جائے تو انیس سو تیس کے بعد کے سب سے شدید مالیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ راسموسن نے زور دیتے ہوے کہا کہ غریبی اور امیری کے درمیان بڑھتے فرق پر بھی قابو پانے کی ضرورت ہے۔

یورپیی سوشلسٹوں کے نعرے انتہائی سادہ ہیں یعنی، ہر روز تولیہ تبدیل نہ کریں، ٹیکسی یا جہازمیں سفر کرنے کے بجائے ٹرین کو ترجیح دیں وغیرہ۔ اس قسم کے اقدامات کا مقصد انفرادی سطح پر ماحول کو مزید تباہی سے بچانے کا عزم ظاہر کرنا ہے۔ کانگریس میں شرکت کے لئے آنے والے یورپی ممالک کے اعلیٰ حکومتی عہدیداران بھی ٹرین سے سفر کرکے پراگ پہنچے جس کا ٹکٹ میزبان ملک کی جماعت Czech Social Democrats نے فراہم کئے تھے۔

کانگریس کے دوران بھی انتہائی سادگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے توانائی کی بچت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

Poul Nyrup Rasmussen

یورپی سوشلسٹ جماعت کے نئے سربراہ پؤل راسموسن۔

میزبان ملک چیک جمہوریہ کے سابق وزیر اعظم جیری پاروبیک نے اس موقع پر کہا کہ دو روزہ کانگریس میں یورپی مالیاتی نظام میں اصلاحات کا معاملہ بھی چھیڑا جائے گا۔ آج اس کانگریس کے دوسرے روز سوشلسٹ جماعت، مستقبل کی پارٹی منصوبہ بندی طے کرے گی۔

یورپی سوشلسٹوں کی یہ کانگریس ہر پانچ سال میں دو بار منعقد کی جاتی ہے۔ اس بار یہ کانگریس ایسے موقع پر ہورہی ہے جب ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں اقوام متحدہ کے تحت بہت بڑے پیمانےکی ایک کانفرنس جاری ہے جس کا بنیادی نکتہ ماحولیاتی تحفظ کے کسی عالمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحول سے متعلق ادارے کے سربراہ ایو ڈی بوئر نے اجلاس کے دوران زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی اور زمین کے بڑھتے درجہ حرارت پر قابو پانے سے متعلق اہم پیش رفت کی امید ظاہر کی ہے۔ ان کے بقول کاربن گیسوں میں کمی سے متعلق وعدوں پر عملدرآمد، اسی سلسلے میں سالانہ دس بلین ڈالر کی امداد سمیت دیگر طویل المددتی منصوبوں پر عملدر آمد، وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کوپن ہیگن کانفرنس بارہ روز تک جاری رہے گی۔ اس میں سو سے زائد ممالک کے سربراہان اور ایک سو بیانوے ممالک کے پندرہ ہزار سے زائد مندوبین کی شرکت کا امکان ہے۔

رپورٹ : شادی خان

ادارت : عاطف بلوچ