1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

پرانے ہتھیار، نئے اہداف:چوہے اینٹی بائیوٹکس کے ذریعے ملیریا سے محفوظ

Azithromycin جیسی اینٹی بائیوٹیکس ملیریا زا جراثیموں سے بچنے اور ان کے حملوں کے شکار جسموں کی مددکرنے اور ملیریا کے خلاف مدافعتی قوت پیداکرنے میں بھی مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

default

مچھروں کے ڈنگ سے پھیلنے والا ملیریا کا انفیکشن مہلک ثابت ہو سکتا ہے

عالمی ادارہء صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق افریقہ میں ہر 45 سیکنڈ میں ایک بچہ ملیریا کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ اس موذ‍ی عارضے کے خلاف گرچہ ایک ٹیکہ ایجاد ہو چکا ہے، جسے جلد ہی مارکیٹ میں لانے کی اجازت بھی دے دی جائے گی، تاہم یہ بہت زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوا۔ ملیریا کے خلاف حفظ ما تقدم کے طور پر استعمال کی جانے والی ادویات ایک طویل عرصے سے دستیاب ہیں تاہم ایک تو یہ کافی مہنگی ہیں دوسرے یہ کہ اکثر و بیشتر ان کے سائیڈ ایفیکٹس یا ضمنی اثرات کافی شدید نوعیت کے ہوتے ہیں۔

طبی محققین کی ایک عالمی ٹیم نے ایک نئی دریافت کی ہے۔ انہوں نے ایک ایسی اینٹی بائیوٹک کا پتہ چلایا ہے،جو نہ صرف ملیریا کے پھیلاؤ کو روکنے بلکہ جسم کے اندر اس کے بیکٹیریا کے خلاف قوت مدافعت بھی پیدا کرتی ہے۔

Senegal Gesundheitswesen OP-Saal in Dakar

متعدد افریقی ممالک میں ملیریا کی وبا لاتعداد انسانوں کی جان لے رہی ہے

کئی دہائیوں سے Azithromycin اینٹی بائیوٹک مارکیٹ میں دستیاب ہے اور کروڑوں انسان اسے استعمال کر چکے ہیں۔ تاہم اسے ایسی بیماریوں کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا ہے، جو ملیریا کے مقابلے میں کہیں کم مضر ہوتی ہیں۔ برلن میں قائم ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ سے منسلک عفونت زا حیاتیات کے ماہر یوہانس فریزن Azithromycin کے بارے میں کہتے ہیں ’Azithromycin اور اس جیسی اینٹی بائیوٹکس Middle Ear Otitis یا کان کے وسطی حصے کی سوزش یا سوجن اور پھپھڑوں کے انفیکشن اور ایسی دیگر بیماریوں کے خلاف استعمال کی جاتی ہیں، جو معاشرے میں عام ہوتی ہیں۔ یہ ادویات بہت محفوظ ہوتی ہیں، یہاں تک کہ حاملہ خواتین اور بچوں کو بھی یہ دوائیں دی جا سکتی ہیں‘۔

Azithromycin جیسی اینٹی بائیوٹکس کی مدد سے تاہم ملیریا زا جراثیموں سے بچا جا سکتا ہے۔ ملیریا دراصل یک خلیائی پیراسائٹ سے جنم لیتا ہے، جس کا تعلق Plasmodium پیرا سائٹس کے گروپ سے ہے۔ یہ دراصل میملز یا دودھ پلانے والے جانوروں اور حشرات کے ایک ایسے سلسلے، جن کی خصوصیت دو جھلی دار پر ہوتے ہیں، پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ان میں عام مکھیاں، مچھر اور پسو شامل ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ Azithromycin جیسی اینٹی بائیوٹکس ملیریا کے خلاف جسم میں قوت مدافعت پیدا کرتی ہیں۔ اس طرح ان کے استعمال سے ملیریا جیسی بیماری کے حملے سے بچا جا سکتا ہے۔ اس بارے میں برلن کے ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ کے طبی محققین نے چوہوں کی لیبارٹری میں ایک تجربہ کیا ہے۔ اس ٹیم کے سربراہ یوہانس فریزن کے بقول ’ایک طرف تو ہم نے ملیریا زا جراثیموں کو چوہوں کے خون میں براہ راست انجیکٹ کر دیا اور دوسری طرف ہم نے اس تجربے میں انفیکشن کے شکار مچھروں کو بھی شامل کیا۔ اس کے بعد ہم نے چوہوں کو بیہوشی کی دوا دے دی اور ان مچھروں کو ان کے جسموں پر چھوڑ دیا۔ اس طرح ملیریا کے جراثیم ان مچھروں کے ذریعے ان چوہوں کے جسم میں منتقل ہو گئے‘۔

Malaria Welt Malaria Tag Kind Moskito Netz Flash-Galerie

ملیریا سے بچنا کا ایک مؤثر طریقہ مچھر دانی کا استعمال بھی ہے

محققین کا کہنا ہے کہ یہ پیراسائٹ سب سے پہلے جگر تک پہنچتے ہیں اور وہاں ان کی افزائش بہت تیزی سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد یہ دوران خون میں شامل ہو کر سرخ خلیوں کو بری طرح نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہی سب سے خطرناک مرحلہ ہوتا ہے، جس کے بعد ملیریا پورے جسم میں پھیل جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے اس تجربے کے دوران ملیریا کا شکار ہونے والے چوہوں نے ایک آدھ روز کے اندر ہی دم توڑ دیا۔ دوسری جانب ریسرچرز نے چوہوں کو مچھروں کے کاٹنے کے فوراً بعد ہی Azithromycin اینٹی بائیوٹک کا ٹیکہ بھی لگایا۔ اس کے نتیجے کے بارے میں یوہانس فریزن بتاتے ہیں ’ہم نے ان چوہوں میں کوئی انفیکشن نہ پایا۔ ان کے دوران خون پر انفیکشن حملہ آور نہیں ہو سکا اور وہ بالکل صحت مند رہے‘۔

ہوا دراصل یہ کہ Azithromycin اینٹی بائیوٹک نے ملیریا کے انفیکشن پر حملہ کر کے اس کی سرکوبی کی۔ ماہرین کے مطابق اس اینٹی بائیوٹک نے دو اہم کام انجام دیے۔ ایک یہ کہ مچھر کے ڈنگ کے ذریعے چوہوں کے جگر تک پہنچنے والے انفیکشن کو وہیں روک دیا اور اسے خون میں شامل ہو نے نہیں دیا۔ دوسرے یہ کہ اس کی مدد سے چوہوں کے اندر ملیریا کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملیریا کے جراثیم خون کے سُرخ خلیوں کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ یعنی یہ چوہے ملیریا کے خلاف طبی مومانیت کے حامل ہو چکے تھے۔ طبی ماہرین نے بتایا ہے کہ Azithromycin پیراسائٹس Plasmodium Falciparum کے خلاف بھی نہایت مؤثر ثابت ہو سکتی ہے، جو انسانوں میں ملیریا پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ بنتے ہیں۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس