پدماوتی: بھنسالی کو قتل کرنے والے کے لیے انعام کا اعلان | فن و ثقافت | DW | 16.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پدماوتی: بھنسالی کو قتل کرنے والے کے لیے انعام کا اعلان

بالی وڈ کے فلم سازسنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’پدماوتی‘ کا تنازع ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کی مداخلت کے بعد اب اُتر پردیش حکومت نے اس کی نمائش پر پابندی لگانے کا باضابطہ مطالبہ کردیا ہے۔

اترپردیش کی یوگی ادیتیہ ناتھ حکومت نے مرکزی حکومت کو خط بھیج کر مطالبہ کیا ہے کہ ’پدماوتی‘ کو ریلیز نہ ہونے دیا جائے کیوں کہ اس سے صوبہ میں امن و قانون کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ فلم یکم دسمبر کو ریلیز ہونے والی ہے۔ اس میں دیپکا پڈوکون نے رانی پدماوتی، شاہد کپور نے ان کے شوہر راول رتن سنگھ اور رنویر سنگھ نے علاء الدین خلجی کا کردار ادا کیا ہے۔
راجپوتوں کا دعویٰ ہے کہ اس فلم میں تاریخی حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے اور ان کے یہاں تقدیس کا درجہ رکھنے والی رانی پدماوتی کے جنہیں رانی پدمنی بھی کہا جاتا ہے،کردار کو داغدار کیا گیا ہے۔ راجپوتوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم ’’راجپوت کرنی سینا‘‘ اس فلم کے خلاف ملک کے مختلف صوبوں میں مسلسل مظاہر ے کر رہی ہے۔ اس نے یکم دسمبر کو ملک گیر ہڑتال اور احتجاجی ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا ہے او رکہا کہ وہ لوگوں کو فلم دیکھنے سے روکنے کی کوشش کرے گی۔

Indien Bollywood Film Padmavati

راجپوتوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم ’’راجپوت کرنی سینا‘‘ اس فلم کے خلاف ملک کے مختلف صوبوں میں مسلسل مظاہرے کر رہی ہے


کرنی سینا کے بانی سربراہ لوکیندر سنگھ کالوی نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اداکارہ دیپیکا پڈوکون پر حملہ کر کے ان کی ناک کاٹ ڈالنے کی دھمکی دی ہے۔ جب کہ سینا کے ایک اور رہنما نے فلم ساز بھنسالی کا سرکاٹ کر لانے والے کے لیے پانچ کروڑ روپے کا انعام دینے کا اعلان کردیا ہے۔ سینا نے تمام ضلع مجسٹریٹوں اور سنیما گھر مالکان کو خون سے لکھے خط بھیج کرفلم کی نمائش روکنے کی درخواست کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ لوکیندر کالوی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی اس فلم کی نمائش کو روکنے کی اپیل کی ہے۔کانگریس کے ترجمان آر پی این سنگھ نے راجپوت برادری کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے تمام قابل اعتراض مناظر کو فلم سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کے ایک رہنما ارجن گپتا نے فلم ساز بھنسالی پر مبینہ طور پر تاریخ مسخ کرنے کے لیے غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ’’تاکہ مستقبل میں کوئی فلم ساز ایسی حرکت کرنے کی جرات نہ کرسکے۔‘‘


بھارت کی عدالت عظمٰی اس فلم کی نمائش پر روک لگانے کی درخواست پہلے ہی مسترد کرچکی ہے۔ اطلاعات و نشریات کی وزیر اسمرتی ایرانی نے بھی واضح کیا ہے کہ امن و قانون کو برقرار رکھنا ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اس فلم کی نمائش میں کسی طرح کی پریشانی نہ ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت میں فلموں کی نمائش کی اجازت دینے والے ادارے سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن نے، جسے سنسر بورڈ بھی کہا جاتا ہے، اس فلم کو ابھی تک سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی نے فلم دیکھی ہے۔ البتہ ’پدماوتی‘ کے تین منٹ کا ایک ٹریلر آٹھ اکتوبر کو ریلیز کیا گیا تھا۔ فلم ساز بھنسالی نے ایک ویڈیو پوسٹ کر کے وضاحت کی ہے کہ اس فلم میں علاء الدین خلجی اور پدماوتی کے درمیان کوئی قابل اعتراض سین نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ فلم دراصل رانی پدماوتی کی قربانی، بہادری اور وقار کو خراج تحسین ہے۔ دیپکا پڈوکون نے بھی ایک بیان میں کہا کہ وہ اس فلم اور کہانی کا حصہ بن کر فخر محسوس کر رہی ہیں۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جسے ضرور بتایاجانا چاہئے۔ انہوں نے سوال کیا، ’’ہم ایک قوم کے طور پر کہاں پہنچ گئے۔ یہ خوفناک ہے، بہت ہی خوفناک۔‘‘
سول سوسائٹی اور فلم برادری بھنسالی کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہے۔ سنسر بورڈ کے سربراہ اور نغمہ نگار پرسون جوشی، نغمہ نگار جاوید اختر، فلم ساز کرن جوہر، سدھیرا مشرا سمیت متعدد شخصیات اور تنظیموں کے علاوہ ہندو قوم پرست جماعت مہاراشٹر نو نرمان سینا نے بھی بھنسالی کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ فلم دیکھے بغیر اس کی مخالفت کرنا افسوس ناک ہے۔
ایک سو اسی کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی اس فلم کو ابتدا سے ہی پریشانیوں کا سامنا رہا۔ جے پور اور کولہا پور میں اس کی شوٹنگ کے دوران کرنی سینا کے اراکین نے فلم کے سیٹ توڑ ڈالے تھے اور بھنسالی کے ساتھ ہاتھا پائی بھی کی تھی۔

Indien Bollywood Film Padmavati

راجپوتوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم ’’راجپوت کرنی سینا‘‘ سینا کے ایک رہنما نے فلم ساز بھنسالی کا سر کاٹ کر لانے والے کے لیے پانچ کروڑ روپے کا انعام دینے کا اعلان کردیا ہے


خیال رہے کہ ’پدماوت‘ اودھی زبان کا پہلا رزمیہ ہے۔ جو 1540 میں ہندی کے شاعر ملک محمد جائسی نے لکھا تھا۔ یہ چتوڑ کے راجپوت راجا رتن سین اور رانی پدمنی کی محبت کا قصہ اور علاؤ الدین خلجی کے رانی کے عشق میں مبتلا ہونے اور چتوڑ قلعے پر چڑھائی کرنے کی داستان ہے۔ اسے راجپوتوں کے ہاں خاص تاریخی و نسلی تقدس حاصل ہے۔ لیکن کہانی کی تاریخی حیثیت متنازع ہے ۔ معروف دانشور اور دہلی یونیورسٹی میں ہندی کے پروفیسر ڈاکٹر اپوروانند نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ملک محمد جائسی نے ایک فرضی کردار تخلیق کیا جس کا تاریخ میں کہیں نام و نشان نہیں ہے۔ لیکن حالیہ تنازعے کو میں ادب کی فتح سمجھتا ہوں کہ ایک فرضی کردار کو حقیقی سمجھ لیا گیا۔ آخر ایک مصنف کو اس سے زیادہ کیا چاہیے کہ اس نے جو کردار تخلیق کیا ہے وہ اتنا طاقت ور ہوگیا کہ لوگ اسے اصلی ماننے لگے ۔‘‘