1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’پا کستان میں احتجاج پر بھی ارباب اختیار کا راج‘

سابق پاکستانی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی بدھ کے روز نکالی جانے والی ریلی سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس پر بحث کا سبب بنی ہوئی ہے۔

پاکستان میں تین مرتبہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے والے نواز شریف کو اٹھائیس جولائی کے روز پاکستانی سپریم کورٹ نے نا اہل قرار دے دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد اپنی اور اپنی جماعت کی سیاسی طاقت کا اظہار کرنے کے لیے نواز شریف نے گزشتہ روز سے ایک ریلی منعقد کر رکھی ہے۔

عائشہ گلالئی، دونوں اطراف سے الزامات کی بوچھاڑ

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق بدھ نو اگست کے روز جب نواز شریف اس ریلی کی قیادت کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لاہور جانے کے لیے نکلے تو  پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے انہیں گلے لگاکر رخصت کیا تھا۔

اس ریلی کے بارے میں بات کرتے ہوئے نواز شریف کے ایک حامی سابق سرکاری افسر ارشد افتخار نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ عوام نے مسترد کردیا یے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر پاکستان تحریک انصاف کے حامی صارفین بھی اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ نوازشریف اس مرتبہ ’عوام کا سمندر‘ جمع کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف ’نوٹوں ہی سے اقتدار میں آتے ہیں میرٹ سے نہیں۔ انہوں نے حکومتی وسائل کا غلط استعمال کیا ہے‘۔

پاکستان کی موروثی سیاست بھی ’گیم آف تھرونز‘

مقامی میڈیا کے اینکر پرسن عادل عباسی کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے ساتھ ان کے حامیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔  تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس ریلی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ شیخ رشید کا اپنے منفرد انداز میں کہا، ’’میاں صاحب آپ کی ریلی فلاپ ہوگی ہے۔‘‘

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق اسلام آباد سے لاہور کی جانب روانہ اس قافلے میں ہزاروں لوگ نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ پاکستانی صوبہ پنجاب کا دارالحکومت لاہور نواز شریف کا ’سیاسی قلعہ‘ تصور کیا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر نواز شریف کے خلاف چلائے جانے والے ایک ٹرینڈ میں ایک جانب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ نواز شریف اپنی ہی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آئے ہیں تو دوسری جانب #GTroadRally ٹرینڈ پرنواز شریف کے دفاع میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں مسلم لیگ نون ہی سیاسی جماعت ہے باقی سب پریشر گروپ ہیں‘۔

’مارشل لاء کا مطالبہ‘ سازش یا خواہش؟

DW.COM