1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک، چین جوہری تعاون کی کوششیں

چين اور پاکستان ايک دوسرے کو " ہر موسم کا ساتھی" کہتے ہيں۔ اُن کے قريبی تعلقات کی وجہ، دونوں کے مشترکہ ہمسائے بھارت کے ساتھ لمبے عرصے کے اختلافات اور علاقے ميں امريکی اثرورسوخ کی روک تھام کی خواہش ہے۔

default

پاکستانی صدر آصف علی زرداری منگل سے چين کا سرکاری دورہ شروع کررہے ہيں جس کے دوران اعلی سطحی مذاکرات ہوں گے۔ پچھلے ماہ پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل اشفاق پرويز کيانی بھی چين کا دورہ کرچکے ہيں۔ اندازہ ہے کہ صدر زرداری کے دورے ميں سلامتی کے سلسلے ميں دو طرفہ تعلقات اور اقتصادی امور کے علاوہ ايٹمی شعبے ميں تعاون پر بھی بات چيت ہوگی جس پر بعض طاقتوں نے شديد ردعمل ظاہر کيا ہے۔ پاکستان چين سے سب سے زيادہ روايتی اسلحہ حاصل کرتا ہے۔ تجزيہ نگاروں کے مطابق چين نے گزشتہ عشروں کے دوران پاکستان کے ايٹمی پروگرام کو بھی مدد فراہم کی تھی۔
Pakistanischer Armeechef Ashfaq Kayani

فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی

چين اور پاکستان کے درميان پچھلے ويک اينڈ پر فوجی مشقيں بھی ہوئيں جس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی صلاحيت ميں اضافہ کرنا بتايا گيا۔ چین نے پاکستان کے صوبہ پنجاب ميں چشمہ نيوکليئر پلانٹ کی تعمير ميں بھی مدد دی تھی۔ اس وقت چين چشمہ ميں ايک اور ايٹمی پلانٹ کی تکميل ميں مصروف ہے جبکہ يہاں مزيد دو ايٹمی پاور پلانٹس کی تعمير کا منصوبہ بھی ہے۔ پاکستان ميں بجلی کی شدید قلت اور آبادی ميں اضافے کے ساتھ بجلی کی ضرورت ميں مزيد اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ چينی نيوکليئر کمپنياں غير ملکی منڈيوں ميں اپنے ايٹمی ری ايکٹر فروخت کرنا چاہتی ہيں اور اس وقت پاکستان وہ واحد ميدان ہے جہاں وہ اپنی ايٹمی ٹيکنالوجی کو آزما کر اُسے دوسرے ملکوں کو بھی فروخت کے لئے بہتر بنا سکتی ہيں۔ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ پاکستان چشمہ پلانٹس سے استعمال شدہ جوہری ايندھن لے کر اس سے ايٹم بم بنانے کے لئے پلوٹونيم حاصل کرسکتا ہے ليکن عملی طور پر ايسا ممکن نہيں ہے کيونکہ عالمی ايٹمی ايجنسی نے چشمہ ميں حفاظتی اقدامات کر لئے ہيں۔ اس کے علاوہ چین بھی استعمال شدہ ايٹمی ايندھن پر کنٹرول رکھے گا تاکہ اسے ايٹمی اسلحے کی تياری کے لئے نہ استعمال کيا جاسکے۔

China Pakistan Beziehungen

چين اور پاکستان ايک دوسرے کو " ہر موسم کا ساتھی" کہتے ہيں

امريکہ بھی پاکستان کا قريبی ساتھی ہے ليکن تجزيہ نگاروں کے مطابق پاکستان چين کو مغرب کے اثرات کی روک تھام ميں مددگار سمجھتا ہے۔ پچھلے سال کئے جانے والے ايک سروے کے مطابق 84 فيصد پاکستانی چين کے بارے ميں اچھے خيالات رکھتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں امريکہ کے حاميوں کا تناسب 16 فيصد ہے۔ پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے حکومت سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ وہ ہر تين ماہ بعد چين کا دورہ کريں گے ليکن ابھی تک چين میں ان کے لئے کوئی خاص گرمجوشی نہيں پائی جاتی۔ تاہم جرمن مارشل فنڈ کے اينڈريو اسمان کے مطابق زرداری کے دورے سے، جس ميں وہ چینی صدر ہو جن تاؤ اور وزير اعظم وين جيا باؤ سے ملاقاتيں کريں گے، ان تعلقات ميں بہتری پيدا ہوسکتی ہے۔ رپورٹ : شہاب احمد صدیقی ادارت : افسر اعوان

DW.COM