1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک چین تعلقات اور بھارتی خدشات

چینی وزیراعظم نے پاک چین تعلقات کو ہر موسم کی دوستی سے تعبیرکیا ہے۔ دونوں ملک تعلقات کے ساٹھ سال مکمل ہونے پر خصوصی رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چین، پاکستان کو سب سے زیادہ اسلحہ فراہم کرنے والا ملک بھی ہے۔

default

اسلام آباد: چینی وزیر اعظم کے لیے گارڈ آف آنر سن 2010 میں

ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاک امریکہ تعلقات کو شدید دھچکہ پہنچا ہے۔ اس باعث دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی کی فضا قائم ہو چکی ہے۔ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکہ کی جانب سے اٹھتی تنقیدی انگلیوں کے جواب میں چین کے دوستی اور تعلقات میں استحکام کے بیانات نے پاکستانی اعتماد کو حوصلہ دیا ہے۔ اس حوالے سے اہم سوال یہ بھی ہے کہ پاکستانی اور چینی لیڈروں کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات کیا اس دوستی کے مثبت فروغ کا باعث بن سکیں گے۔

اس مناسبت سے بین الاقوامی ماہرین خدشات رکھتے ہیں۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے چینی امور کے ماہر جوناتھن پولاک کہتے ہیں:

’’میرے خیال میں بے یقینی اور عدم استحکام کے عنُصر موجود ہے اور یہ پاکستان میں کمزور حکومتی اختیار کی وجہ سے ہے، اس باعث چین کو فکر لاحق ہو سکتی ہے۔ چین اس صورت حال کو عام کرنے کو قطعاً پسند نہیں کرے گا۔ معاملات پر وہ خاموشی کے ساتھ بات چیت کو ترجیح دے گا‘‘

Flash Galerie China Pakistan Beziehungen

سن 2006 میں چینی صدر کی پاکستان آمد پر پاکستانی لڑکیاں چینی و پاکستانی جھنڈیاں تھامے ہوئے

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چینی حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان اب امریکہ پرکم انحصار کو فوقیت دے سکتا ہے۔ پاکستانی حکومت کو چین سے مالی امداد کی بھی توقع ہے۔ بروکنگز انسٹیٹیوٹ میں جنوبی ایشیا کے امور کے ماہر سٹیفن کوہن کا خیال ہے کہ چین کبھی بھی امریکہ کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

’’چین نے مشرق وسطیٰ کے لیے ہمیشہ پاکستان کو استعمال کیا ہے اور یہی پہلو چین کے لیے اہم ہے لیکن سنجیدہ اقتصادی معاملات میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں جمہوریت کے فروغ اور پاکستانی سیاست میں نارمل صورت حال پیدا کرنے کے تناظر میں چین کلی طور پر آگے نہیں بڑھے گا۔ ایسی چینی اپروچ کو پاکستانی پسند کریں گے کیونکہ وہ یہ سب کچھ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں دیکھ چکے ہیں۔‘‘

پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ تنویر احمد کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں پاکستان نے امریکہ اور مغرب پر بہت انحصار کیا ہے۔ مزید یہ کہ اب یہ تعلقات خوشگوار سطح پر نہیں ہیں تو اس صورت حال میں پاکستانی پارلیمنٹ اورعوام دیگر ملکوں کے ساتھ تعلقات میں استحکام کے خواہشمند ہیں۔ دو مئی کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدہ صورت حال میں پاکستان کا چین کی جانب بڑھنا ایک فطری عمل قرار دیا گیا ہے۔

پاکستانی صدر اور وزیر اعظم کے چینی دوروں کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ چین نے پاکستان کو جنگی طیاروں کی جلد فراہمی کا بھی عندیہ دیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان اور چین کے ہمسایہ ملک بھارت کی جانب سے پاک چین رابطوں پر تشویش بھی سامنے آئی ہے۔ بھارت کے وزیر دفاع اے کے انتھونی نے اے ایف پی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا صرف ایک جواب ہے کہ ان کے ملک کو اپنی دفاعی استعداد کو بڑھانا ہو گا۔ بھارتی وزیر دفاع نے یہ بھی بتایا ہےکہ ان کا ملک جلدی ہی فضائیہ کے لیے ایک سو سے زائد جدید جنگی طیاروں کی ڈیل مکمل کر لے گا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس