1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ’بلوچستان دشمن‘: سیمینار

پاکستانی صوبہ بلوچستان کی بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں نے گوادر تا کاشغر منصوبے کو ’بلوچستان دشمن‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس پر عملدرآمد سے قبل صوبے کے تمام تحفظات ترجیحی بنیادوں پردورکیے جائیں۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں جمعرات سترہ ستمبر کو منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ مرکزی حکومت پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی آڑ میں پنجاب کو نوازنا چاہتی ہے اور اس لیے حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔

اختر مینگل نے کہا، ’’گوادر سے کاشغر تک کا یہ منصوبہ بلوچ عوام کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی ایک نئی کوشش ہے۔ گزشتہ 67 برسوں میں مرکزی حکومت نے بلوچستان کو تسلسل کے ساتھ پسماندگی سے دوچار کیا ہے۔ جب تک صوبے کے وسائل پر یہاں کے عوام کی حاکمیت کے حق کو تسلیم نہیں کیا جاتا، ہم ایسے کسی منصوبے کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ارباب اقتدار اس مسئلے کی سنگینی سے ناواقف ہیں۔ انہیں زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کرکام کرنا ہوگا۔‘‘

سردار اختر مینگل نے کہا کہ پاکستان کے حکمران بلوچستان کو ایک ’کالونی‘ کی طرح دیکھ رہے ہیں۔ ’’وہ یہاں کے عوام کو جان بوجھ کر مختلف مسائل میں الجھانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز نہ اٹھا سکیں۔‘‘

اختر مینگل کے بقول، ’’میں اپنے شہیدوں کے قبرستان پر عالیشان محل نہیں بنا سکتا۔ جس سرزمین کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے قربانیاں دیں، ہم اسے صرف ایک روڈ کی نذر نہیں کر سکتے۔ ماضی کے تجربات سے ہم نے یہ سبق سیکھا ہے کہ ترقی کے نام پر حکمرانوں نے ہمیشہ ہمارا ستحصال کیا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا حالیہ منصوبہ بھی اس سرزمین کے وسائل کو لوٹنے کی ایک کوشش ہے، جسے ہم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

اس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر بسم اللہ خان نے کہا کہ دو جون کو قومی اقتصادی کونسل اور پھر پانچ دن کے بعد وفاقی بجٹ نے یہ ثابت کر دیا کہ 28 مئی کو نواز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستانیوں سے دھوکہ کیا تھا۔ گوادر تا کاشغر منصوبے پر کام مغربی روٹ پر ہونا تھا، لیکن تمام کام مشرقی روٹ پر شروع کیا گیا ہے۔

بسم اللہ خان نے مزید کہا، ’’پاکستان کا پلاننگ کمیشن ابھی تک 200 ارب روپے سے زیادہ کے کسی منصوبے کا تجربہ نہیں رکھتا۔ اس کمیشن کے حوالے گوادر تا کاشغر روٹ کا 15 ہزار ارب روپے کا منصوبہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ حکومت اس منصوبے پر کام روک کر اس حوالے سے چاروں صوبوں کو انتظامی، سیاسی اور تکنیکی امور میں برابری کی حیثیت دے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ اس وقت تک بلوچستان کے لیے سود مند ثابت نہیں ہو سکتا، جب تک یہاں کے وسائل پر عوام کی خود مختاری کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔‘‘

سیمینار سے خطاب کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اورنگزیب خان کاسی کا کہنا تھا کہ حکمران ترقی کے نام پر بلوچستان کو ایک بار پھر مزید پسماندگی سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’’یہاں کے عوام کو نوکریاں نہیں، اپنے وسائل پر اختیار چاہیے۔ حکومت اگر صوبے کی خیر خواہ ہے، تو اقتصادی راہداری کے منصوبے میں بلوچستان کے تحفظات کا ازالہ کرے۔‘‘

کاسی نے مزید کہا، ’’بلوچستان کے عوام اب حقائق جان گئے ہیں۔ وہ اپنے حقوق پر کسی سے اب کوئی سودا نہیں کریں گے۔ یہ معاملہ چند نوکریوں کا نہیں ہے۔ اس منصوبے کی آڑ میں حکومت پنجاب کو نوازنے کی جو منصوبہ بندی کر رہی ہے، وہ کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔ گوادر پر سب سے زیادہ حق بلوچستان کا ہے۔ اسی لیے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے بھی سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ہی پہنچنا چاہیے۔‘‘

سیمینار سے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر عبدالمتین اخوندزادہ، ساجد ترین، جے یو آئی (نظریاتی) کے مولانا محمد حنیف، اللہ داد ترین اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے مختلف امور پر روشنی ڈالی۔ سیمینار کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا، جس میں گوادر کاشغر منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت بلوچستان کے مجموعی تشخص کے مطابق اس منصوبے کے حوالے سے تمام تحفظات دور کرے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ اقتصادی راہداری منصوبے کو چائنہ پنجاب کوریڈور کے بجائے حقیقی معنوں میں پاک چائنہ کوریڈور پروجیکٹ بنایا جائے۔

DW.COM