1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک چین اقتصادی راہداری: ’بلوچستان کی محرومیاں دور کریں‘

پاکستان کے وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے پاک چین اقتصادی راہداری قومی اور شفاف منصوبہ ہے، جس سے پاکستان کے تمام صوبوں کے ساتھ ساتھ خطے کے تین ارب افراد مستفید ہوں گے۔

کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے کسی بھی صوبے یا خطے کی حق تلفی نہیں کی جائے گی اور ان تمام تحفظات کو دور کیا جائے گا جو مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’پاکستان جغرافیائی اعتبار سے وسط ایشیاء میں ترقی کی علامت ہے اسی لئے کچھ قوتیں ملک کو اس حیثیت پر نہیں دیکھنا چاہتیں اور منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ملک بھر میں تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اس منصوبے پر دستخط کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی سربراہی میں اکنامک فورم کے حوالے سے ایک اجلاس بھی جلد منعقد کیا جائے گ‍ا۔ بلوچستان میں اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کا افتتاح اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حکومت آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے کی روشنی میں مغربی روٹ سے ہی اس منصوبے پر کام کا آغاز کر رہی ہے۔‘‘

احسن اقبال نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت 45 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری ہوگی اور پاکستان اگر جنوبی ایشیاء، وسط ایشیاء اور چین کو یکجا کرنے میں کامیاب ہوا تو اس خطے میں تین ارب کی آبادی پر مشتمل اقتصادی اور تجارتی مارکیٹ قائم ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مذید کہا، ’’توانائی کے منصوبوں کی تکمیل کے بغیر قومی ترقی ممکن نہیں ہو سکتی۔ اقتصادی راہداری کے تحت 36 ارب ڈالر کی خطیر رقم صرف توانائی کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی جو تین سال کی مدت میں مکمل ہوں گے۔ ان منصوبوں کو بعد میں نیشنل گریڈ سے منسلک کیا جائے گا تاکہ ملک کے تمام صوبوں کو ضرورت کے مطابق بجلی میسر آ سکے۔ چین پاکستان کا اہم ترین دوست ہے اور اس ملک کے ساتھ لازوال دوستی کو یقینی بنانا ہماری خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے۔‘‘

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاک چین اکنامک کوریڈور منصوبے کے تحت ملک میں سڑکوں اور ریل کی موجودہ انفراسٹکچرکو بھی مزید بہتر کیا جائے گا تاکہ اندورن ملک اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کم وقت میں ممکن ہو سکے۔

Pakistan - Minister Nawab Sanaullah

پریس کانفرنس سے قبل احسن اقبال نے کوئٹہ میں اراکین صوبائی اسمبلی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماوں سے بھی ملاقات کی اور اقتصادی راہداری کے حوالے سے ان کے تحفظات کا جائزہ لیا



انہوں نے بتایا، ’’اس منصوبے سے پاکستان کو خطے میں مرکزی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ ہمارا وژن ملک کی معیشت کو مضبوط کرنا ہے۔ یہ منصوبہ پورے خطے کی اقتصادی ترقی اور امن کے لئے بھی ایک کلیدی کردار ادا کرے گا۔ منصوبے کی تکمیل سے تاجکستان، افغانستان اور منگولیا بھی مستفید ہو گا۔ اقتصادی راہداری کے پہلے حصہ میں گوادر فری پورٹ زون کے علاوہ کوئی اقتصادی زون نہیں بنایا جارہا، کچھ عناصر اس حوالے سے بلاوجہ غلط فہمیاں پھیلا کر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔‘‘

پریس کانفرنس سے قبل احسن اقبال نے کوئٹہ میں اراکین صوبائی اسمبلی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماوں سے بھی ملاقات کی اور اقتصادی راہداری کے حوالے سے ان کے تحفظات کا جائزہ لیا۔
جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی کے وفد نے وفاقی وزیر سے ملاقات کے موقع پر موقف اختیار کیا کہ گوادر کاشغر اقتصادی راہداری کے حوالے سے بلوچستان کے تحفظات کو دور کرنے کے لئے حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی راہداری منصوبے کے مغربی روٹ پر بلوچستان کے پشتون بیلٹ اور خیبرپختونخوا کو مکمل نظرانداز کیا جارہا ہے جس سے مقامی لوگوں کی احساس محرومی میں اضافہ ہوا ہے۔

قبل ازیں جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی لیڈر اور بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، سینیٹر حافظ حمداللہ اور دیگر نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس بھی کی، جس میں انہوں نے اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ژوب میں گوادر کاشغر منصوبے کے حوالے سے جس مغربی روٹ کا افتتاح کیا ہے، اس کا اس منصوبے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپوزیشن رہنماوں کا کہنا تھا کہ حکومت اگر بلوچستان کی محرومیاں دور کرنا چاہتی ہے تو صوبے کے دیرینہ مسائل کے حل کو یقینی بنائے تاکہ یہاں غیرملکی سرمایہ کاری کے لئے حالات سازگار ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حقیقی رہنماوں کے گوادر کاشغر منصوبے کے حوالے سے جو تحفظات ہیں انہیں فرضی اعلانات سے دور نہیں کیا جا سکتا، حکومت کو یہاں زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کرنے ہوں گے۔

واضح رہے کہ بلوچستان کی بلوچ قوم پرست جماعت بی این پی مینگل، بی آر پی، بی این ایم اور بعض دیگر جماعتوں نے بھی گوادر کاشغر منصوبے کو مسترد کیا ہے۔ ان جماعتوں کے بقول مذکورہ منصوبہ گوادر اور دیگر بلوچ اکثریتی علاقوں میں مقامی بلوچ قبائل کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے جسے وہ کھبی تسلیم نہیں کریں گے۔ بلوچ قوم پرستوں کا خیال ہے کہ مرکزی حکومت بلوچستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے پنجاب کو نوازنے کی کوشش کر رہی ہے۔

گزشتہ دنوں بی این پی مینگل کی جانب سے ایک آل پارٹیز کانفرنس کا بھی انعقاد کیا گیا تھا, جس میں گوادر کاشغر منصوبے کے حوالے سے کئی تحفظات پیش کئے گئے تھے۔