1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک سرزمین پارٹی کا پہلا جلسہ عام، کامیاب یا ناکام؟

ایم کیو ایم کے بطن سے جنم لینے والی پاک سرزمین پارٹی اپنے قیام کے ڈیڑھ ماہ بعد پہلا جلسہ عام کرنے میں تو کامیاب رہی لیکن ابھی سندھ کے اردو اسپیکنگ افراد نے اسے ایم کیو ایم کے متبادل کے طور پر قبول نہیں کیا۔

شاید یہی وجہ رہی کہ دعووں اور توقعات کے برخلاف جلسہ میں شرکا تعداد کم رہی۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی اپنے قیام کے محض ایک ماہ کے اندر ہزاروں افراد کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ کمال کا مزید کہنا تھا، ’’پاکستانی عوام تیار رہیں، ہم ایک ایک گھر آئیں گے۔‘‘

مزرا قائد سے متصل باغ جناح نامی میدان پر تقریباﹰ ایک ہفتے سے جلسے کی تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ پارٹی نے ایک روز قبل فیملی فیسٹیول کا انعقاد بھی کیا تھا اور میوزیکل کانسرٹ میں خواتین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی تھی مگر جلسہ میں کچھ کسر رہ گئی۔

کراچی میں مقیم دیگر قومیتوں کے افراد نے تو جلسے میں اتنی ہی بڑی تعداد میں شرکت کی، جتنی وہ ایم کیو ایم کے پروگرامز میں کرتے ہیں، لیکن ایم کیو ایم کی اصل طاقت اردو اسپیکنگ کی واحد نمائندہ جماعت ہونا ہے اور مصطفی کمال اینڈ کمپنی ابھی تک ایم کیو ایم اس حیثیت کو چیلنچ کرنے کے قابل نہیں ہوسکی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جلسے میں شرکا کی تعداد کم ہونے کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں، پہلی وجہ تو پاک سرزمین پارٹی کے قیام اور جلسے کے درمیان کم انتہائی کم مدت ہے جبکہ دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مصطفی کمال صرف مہاجروں کو ٹارگٹ کلنگ اور را کے ایجنٹ ہونے کے الزامات سے نجات دلانے کی بات تو کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ دیگر قومیتوں کو بھی ساتھ ملانے کی بات کرتے ہیں جب کہ اس وقت اردو اسپکنگ افراد میں موجود یہ احساس ہے اگر سندھ سندھی، پنجاب پنجابی، بلوچستان بلوچوں اور خیبر پختون خواہ پشتونوں کا ہے تو پھر کراچی سب کا کیوں ہے۔

Pakistan Karatschi Pak Sar Zameen

باغ جناح میں جلسہ شروع ہونے سے قبل لی گئی ایک تصویر

سینئر مقامی صحافی سید امین حسین کے مطابق اندرون سندھ سے بھی پاک سرزمین پارٹی کو وہ رسپانس نہیں مل سکا جس کا مصطفی کمال اور ان کے ساتھی توقع کررہے تھے۔ قافلے اندرون سندھ سے آئے تو ہیں مگر اس طرح نہیں جیسے ایم کیو ایم کے جلسوں میں شرکت کیلئے آتے ہیں۔

تجزیہ کار کے آر فاروق کہتے ہیں کہ باغ جناح پر جلسے کی بنیاد تحریک انصاف نے رکھی تھی جسے بعد یہاں ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، سندھ میں حکمران پیپلزپارٹی اور جماعت الدعوۃ عوامی اجتماعات منعقد کرچکی ہیں لیکن اس پنڈال کو بغیر کرسیوں کے مکمل بھرنے کا کارنامہ صرف مولانا فضل الرحمان کی جمعت علمائے اسلام سرانجام دے سکی ہے۔ تاہم جلسوں اور ووٹ کی سیاست دو بالکل مختلف عناصر ہیں اور کراچی میں صرف ایم کیو ایم ان دونوں اجزا کو یکجا کرسکی ہے۔

ایک جانب کراچی میں پاک سرزمین پارٹی اپنا پہلا عوامی اجتماع منعقد کررہی تھی تو دوسری جانب ایم کیو ایم کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کررہی ہے۔ پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنے پر بیٹھے ایم کیو ایم کے کارکن اور رہنما اچانک وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب چل پڑے اور اسی وقت تمام میڈیا کی توجہ پاک سرزمین پارٹی، اسلام آباد میں تحریک انصاف اور لاہور میں جماعت اسلامی کے کرپشن کے خلاف دھرنے سے ہٹ کر ایم کیو ایم کے احتجاج پر مرکوز ہوگئی۔

تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ پاک سرزمین پارٹی ایم کیو ایم کو وہ نقصان بھی پہنچانے میں تاحال ناکام رہی ہے جو آفاق احمد اور عامر خان مہاجر قومی موومنٹ بناکر پہنچا چکے ہیں۔