1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پاک جرمن دستاویزی فلم Berlinale فلمی میلے میں

پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہدایتکار خالد گل نے پاکستانی معاشرے میں خواجہ سراؤں کے رنگا رنگ کردار پر ’’چَن دی چُمی‘‘ کے نام سے ایک دستاویزی فلم تیار کی ہے، جو Berlinale میلے کے دوران دکھائی جا رہی ہے۔

default

ڈوئچے ویلے کے شعبہء اردو کے ہفتہ وار ادبی اور ثقافتی پروگرام کہکشاں کے لئے اپنے انٹرویو میں خالد گل نے بتایا کہ وہ گذشتہ چھ سال سے برلن میں مقیم ہیں اور فلم کے حوالے سے یہ اُن کا پہلا منصوبہ تھا، جسے مکمل کرنے میں اُنہیں چار برس لگے ہیں۔ اُنہوں نے کہا، فلم "Kiss The Moon" خود میں اتنی مستحکم فلم ہے کہ اِسے بہت زیادہ پذیرائی ملی ہے اور وہ بہت خوش ہیں کہ یہ فلم پرائم ٹائم میں دکھائی جا رہی ہے۔

Szene aus dem Film Kiss the Moon

Berlinale میں دکھائی جانے والی پاک جرمن دستاویزی فلم کا ایک منظر

خالد گل 1959ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گرافک ڈیزائننگ میں گریجوایشن کرنے کے بعد کچھ عرصہ ایڈورٹائزنگ کے شعبے سے وابستہ رہے۔ پھر اُنہوں نے اپنا شعبہ بدل لیا اور تھئیٹر کی دُنیا سے وابستہ ہو گئے، جہاں اُنہوں نے چار ڈراموں کی ہدایات دیں جبکہ متعدد میں اداکاری بھی کی۔ وہ چار سال تک گریجوایشن کی سطح کے طلبہ کو اور دو سال تک بچوں کو آرٹ کی تعلیم بھی دیتے رہے۔

سن دو ہزار ایک میں اُنہیں ایک پاک جرمن مشترکہ فلم کے لئے کام کرنے کا موقع ملا، جس کے فوراً بعد وہ جرمنی منتقل ہو گئے۔

Szene aus dem Film Kiss the Moon

شادی بیاہ پر گانے بجانے کے ذریعے لوگوں کورنگا رنگ تفریح فراہم کرنے والے خواجہ سرا معاشرے میں تنہا رہ جاتے ہیں

"Kiss The Moon" یعنی ’’چَن دی چُمی‘‘ برلن کے فلمساز ادارے ’’سے چیز‘‘ پروڈکشنز کے پرچم تلے تیار ہوئی ہے۔ خالد گل کے مطابق وہ ہمیشہ سے کسی ایسے موضوع پر فلم بنانا چاہتے تھے، جو اُن کے دل سے قریب ہو۔ جب اُنہوں نے اپنے بچپن کے دنوں کو یاد کیا تو اُنہیں خواجہ سراؤں کا کردار بہت دلچسپ لگا، جو نومولود بچوں کو لوری دینے سے لے کر شادی بیاہ جیسی رسومات تک میں اپنے گانے بجانے کے ذریعے معاشرے میں ایک رنگا رنگ کردار کے حامل ہیں۔

Szene aus dem Film Kiss the Moon

یہ دستاویزی فلم خواجہ سراؤں کی زندگی کے کئی چھپے گوشوں کو سامنے لاتی ہے

خالد گل کے مطابق یہ طبقہ لوگوں کو تفریح بھی فراہم کرتا ہے لیکن دوسری جانب یہی طبقہ عام لوگوں کے طنز کا بھی نشانہ بنتا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ عام طور پر یہ کمیونٹی اندر سے خود کو اتنا مضبوط رکھتی ہے کہ باہر کے کسی شخص کو اُن کی روزمرہ زندگی کے معمولات تک رسائی نہیں مل پاتی تاہم وہ خوش قسمت ہیں کہ خواجہ سراؤں نے اُن پر اعتماد کیا اور اُنہیں اپنی زندگی کے مختلف گوشوں سے متعارف کروایا۔

خالد گِل کے مطابق اِس فلم کی کامیابی کے بعد وہ پاکستان میں ارینجڈ شادیوں پر کوئی فلم بنانا چاہیں گے کیونکہ شہر ہوں یا دیہات، اِس طرح کی شادیاں بہت سے لڑکے لڑکیوں کے لئے عمر بھر کا روگ بن جاتی ہیں۔

Audios and videos on the topic