1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاک بھارت کرکٹ کی تاریخ کے پانچ تلخ ترین واقعات

کرکٹ میں مقابلہ اگر پاکستان اور بھارت کی قومی ٹیموں کے مابین ہو تو ہر لمحہ کھلاڑیوں اور شائقین کے جوش و جذبے سے بھرپور ہوتا ہے۔ اتوار اٹھارہ جون کو ہونے والا چیمپئنز ٹرافی کا فائنل بھی ایسا ہی ایک تاریخی مقابلہ ہو گا۔

جنوبی ایشیا کی دو ہمسایہ لیکن حریف ایٹمی طاقتیں اور کرکٹ کے کھیل میں بین الاقوامی سطح پر دو بڑے ملکوں کی ٹیمیں، پاکستان اور بھارت گزشتہ کئی عشروں کے دوران آپس میں بیسیوں میچ کھیل چکے ہیں، جس دوران پوری جان لگا کر مقابلہ کرنے کی سوچ اور روایتی حریف پر غالب آنے کی دلی خواہش کئی مرتبہ میدان میں کافی تلخ واقعات کی وجہ بھی بن چکی ہیں۔

پاک بھارت کرکٹ مقابلوں کے دوران آج تک پیش آنے والے پانچ تلخ ترین واقعات:

نمبر ایک: 1992ء میں ورلڈ کپ مقابلوں کے دوران پاکستان اور بھارت کے مابین سڈنی میں ہونے والے ایک میچ میں بھارتی وکٹ کیپر کرن مورے نے پاکستان کے سٹار بیٹسمین جاوید میانداد کو امپائر سے بار بار کی گئی ان کے آؤٹ ہو جانے کی اپیلیں کر کر کے کافی ناراض کر دیا تھا۔ ایک گیند پر تو میانداد رن لیتے ہوئے واپس کریز میں آ چکے تھے تو بھی کرن مورے نے ان کے رن آؤٹ ہونے کی ایک اور اپیل کر دی تھی۔ اس پر میانداد بہت سیخ پا ہو گئے تھے۔

پھر اگلی گیند پر جب میانداد دوبارہ کریز پر لوٹ چکے تھے، تو کرن مورے نے بظاہر اس پاکستانی کھلاڑی کو رن آؤٹ کرنے کی نئی کوشش کرتے ہوئے وکٹوں کی بیلز گرا دی تھیں۔ اس پر میانداد خود کو کنٹرول نہ کر سکے تھے اور انہوں نے شدید غصے میں مورے کی نقل کرتے ہوئے بار بار ہوا میں اچھلنا شروع کر دیا تھا۔ یہ واقعہ انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ کے سب سے مضحکہ خیز واقعات میں سے ایک تھا۔ یہ گروپ میچ بھارت نے جیت لیا تھا لیکن پاکستان فائنل جیت کر ورلڈ چیمپئن بن گیا تھا۔

Cricket Sport Fans Pakistan

دو نوجوان کرکٹ شائقین پاکستان اور بھارت کے قومی پرچموں کے ساتھ

نمبر دو: 1996ء میں ورلڈ کپ کے بنگلور میں کھیلے گئے ایک کوارٹر فائنل میچ میں بھارت کے خلاف کھیلتے ہوئے پاکستانی اوپنر عامر سہیل نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ایک شاندار چوکا لگا کر اپنے پچاس رنز مکمل کیے تھے۔ بھارتی بولر وینکاتیش پرشاد تھے۔ اس چوکے کے بعد عامر سہیل نے اپنے بلے کے ساتھ علامتی طور پر پرشاد کی توجہ اس طرف دلائی تھی، جہاں گیند باؤنڈری پار کر چکا تھا۔ سمجھنے والوں نے اسے یوں سمجھا تھا کہ جیسے عامر نے پرشاد سے کہا ہو، ’’جاؤ، گیند لے کر آؤ۔‘‘

اس کے بعد عامر سہیل نے اگلی گیند پر یہی شاٹ دوبارہ کھیلنے کی کوشش کی، تو وہ بولڈ ہو گئے تھے۔ اس پر پرشاد نے بدلہ لیا اور ان کے لبوں کی حرکت سے لگتا تھا، جیسے انہوں نے انگریزی میں کہا ہو، ’’اب تم گھر جاؤ، حرا۔۔!‘‘ یہ میچ بھارت نے جیت لیا تھا۔ لیکن سیمی فائنل میں بھارتی ٹیم بعد میں فائنل جیتنے والی سری لنکا کی ٹیم سے ہار گئی تھی۔

نمبر تین: 2007ء میں جب پاکستانی ٹیم بھارت کے دورے پر تھی، تو کانپور میں کھیلے جانے والے ایک ون ڈے میچ میں پاکستان کے شاہد آفریدی اور بھارتی اوپنر گوتم گمبھیر کے مابین جسمانی تصادم تقریباﹰ ہو ہی گیا تھا۔ گمبھیر نے آفریدی کی ایک گیند پر چوکا لگایا، جس کے بعد دونوں کے مابین کڑوے جملوں کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔

پھر اگلی ہی گیند پر جب گوتم گمبھیر ایک رن لینے کے لیے دوڑ رہے تھے، تو انہی دونوں کھلاڑیوں کی آپس میں ٹکر بھی ہو گئی تھی۔ پھر ایک گرما گرم مکالمہ ہوا، جس میں دونوں کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کو گالیاں دی تھیں۔ آفریدی نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں اس تلخ واقعے کا ذکر بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ گوتم گمبھیر سب سے زیادہ دوست مزاج کرکٹر نہیں تھے اور خود آفریدی عنقریب ہی گوتم کے ساتھ بیٹھ کر کہیں کافی پیتے تو نظر نہیں آئیں گے۔

Cricket World Cup Semifinal India Pakistan Flash-Galerie

کرکٹ میچ اگر پاکستانی اور بھارتی ٹیموں کے مابین ہو تو دونوں ملکوں میں کروڑوں شائقین انتہائی جذباتی ہو جاتے ہیں

نمبر چار: 2010ء میں پیش آنے والے ایک واقعے میں بھی گوتم گمبھیر ہی ایک فریق تھے۔ مقابلہ ایشیا کپ کا دمبولا میں ہونے والا ایک میچ تھا، جس میں تنازعے کے پاکستانی فریق وکٹ کیپر کامران اکمل تھے۔ گمبھیر بیٹنگ کر رہے تھے اور کامران نے ان کے وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ ہو جانے کی پرزور اپیل کی تھی، جسے امپائر نے مسترد کر دیا تھا۔ اس پر معاملہ جذباتی گرمی اختیار کر گیا تھا۔

پھر جب ڈرنکس کا وقفہ ہوا تو یہی دونوں کھلاڑی ایک دوسرے پر چڑھ دوڑنے والے تھے کہ بھارتی کپتان دھونی نے گوتم گمبھیر کو کھینچ کر ایک طرف لے جاتے ہوئے انہیں پرسکون ہو جانے کے لیے کہا تھا۔

بعد میں گمبھیر نے ایک ٹی وی پروگرام میں اس واقعے کو میدان میں ’لمحاتی جذباتی گرمی‘ کی وجہ سے پیش آنے والا ایک واقعہ قرار دیا تھا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ذمے دار اس میچ کی ٹی وی کوریج کرنے والے وہ لوگ بھی تھے، جنہوں نے ڈرنکس کے وقفے میں ٹی وی اشتہارات دکھانے کے بجائے اس زبانی جھگڑے کو دکھاتے رہنا ہی زیادہ مناسب سمجھا تھا۔

نمبر پانچ: یہ واقعہ بھی 2010ء ہی میں پیش آیا تھا اور ٹورنامنٹ ایشیا کپ ہی تھا۔ تب بھارتی اسپنر ہربھجن سنگھ اور پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر نے، جو دونوں ہی پنجابی ہیں، ایک دوسرے کو پنجابی زبان میں گالیاں دی تھیں۔ وجہ یہ بنی تھی کہ بھارتی بولر نے بیٹسمین کے طور پر ’راولپنڈی ایکسپریس‘ کہلانے والے پاکستانی تیز بولر کی ایک گیند پر ایک بہت ہی بڑا چھکا لگا دیا تھا۔

اس میچ میں آخری سے پہلے کی ایک گیند پر ہربھجن سنگھ نے ایک  چھکا لگا کر بھارتی ٹیم کو فتح دلوائی تھی۔ اس پر بھارتی ڈریسنگ روم میں تقریباﹰ پاگل پن کی حد تک جوش کے ساتھ خوشیاں منائی جانے لگی تھیں۔ ہربھجن سنگھ کے بقول وہ اور شعیب اختر میدان میں ایک دوسرے کے حریف ہوتے تھے اور میدان سے باہر دوست۔

ہربھجن سنگھ نے ایک کھلاڑی کے طور پر شعیب اختر کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں گزشتہ برس کچھ کچھ مسکراتے ہوئے کہا تھا، ’’ایک بار تو شعیب اختر نے مجھے دھمکی بھی دے دی تھی کہ وہ مجھے میرے کمرے میں آ کر پیٹے گا۔ میں نے اسے کہا تھا  کہ آؤ، ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ کون کس کو پیٹتا ہے۔ لیکن میں واقعی خوف زدہ تھا کہ اس کا تو قد کاٹھ بھی بہت زیادہ ہے۔‘‘

DW.COM