1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک بھارت وزرائے اعظم کا امن عمل آگے بڑھانے پر اتفاق

پاکستان اور بھارت نے امن عمل کو آگے بڑھانے اور ایک دوسرے کے تحفظات کو سمجھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات جنوری کے وسط میں اسلام آباد میں کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس بات کا فیصلہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی آج جمعہ 25 دسمب رکو لاہور میں ہونے والی ملاقات کے دوران کیا گیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک مختصر غیر سرکاری دورے کے لیے جمعے کی سہ پہر اپنے 120 رکنی وفد کے ہمرا افغانستان کے دورے کے بعد کابل سے دہلی جاتے ہوئے تھوڑی دیر کے لیے لاہور رکے تھے۔

بھارتی وزیر اعظم مودی کی بھارت روانگی کے بعد لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے بتایا کہ مودی کا یہ ایک خیر سگالی دورہ تھا اور اس دورے کے دوران ہونے والی وزرائے اعظم کی ملاقات بہت مثبت اور خوشگوار رہی۔ ملاقات میں جامع مذاکرات کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ اس ملاقات میں اعتماد سازی کو فروغ دینے اور دونوں ملکوں کے عوام میں روابط بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سول اور فوجی قیادت مسائل کے حل کے حوالے سے متحد ہے۔

جماعت اسلامی نے بھارتی وزیر اعظم کی پاکستان آمد پر ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے جبکہ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات پاکستان اور بھارت میں پائی جانے والی بد اعتمادی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کا استقبال کیا۔ نواز شریف کے ہمراہ ان کے قریبی رشتہ دار وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف اور پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی ہوائی اڈے پر موجود تھے۔

لاہور کے علامہ اقبال ایئرپورٹ سے وزیراعظم مودی کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور کے نواحی علاقے رائیونڈ کے قریب واقع نواز شریف کے ذاتی فارم ہاؤس ’’جاتی عمرہ‘‘ لے جایا گیا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جاتی عمرہ بھارتی پنجاب کے اس گاؤں کا نام بھی ہے جہاں نواز شریف کا خاندان تقسیم ہند سے پہلے رہائش پذیر تھا۔

وزیر اعظم مودی نے جمعے کی صبح نواز شریف کو کابل سے ٹیلی فون کرکے انہیں ان کی سالگرہ کی مبارکباد دی تھی اور ان سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اس پر وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں لاہور میں چائے کی دعوت دی تھی۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ علامتی نوعیت کا ہے، اس دورے کے نتیجے میں پاک بھارت تعلقات میں کسی بڑے بریک تھرو کی توقع کرنا مناسب نہیں ہو گا۔ تاہم ان کے بقول یہ ملاقات پاکستان اور بھارت کی قیادتوں میں پائی جانے والی بد اعتمادی کو کم کرنے اور مسائل کے حل کے لیے ماحول سازگار بنانے میں مددگار ضرورثابت ہو گی۔

نواز شریف نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر اپنے بھارتی ہم منصب نریندرا مودی کا استقبال کیا

نواز شریف نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کا استقبال کیا

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ فارن پالیسی میں ملکوں کے سربراہان کے اچھے اور ذاتی تعلقات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ اگر مودی اور نواز شریف کے تعلقات کی کیمسٹری بہتر ہو رہی ہے تو پھر اس کے اثرات پاک بھارت تعلقات پر بھی ضرور پڑیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں میاں خورشید قصوری کا کہنا تھا، ’’پاکستان اور بھارت دو ایسے ایٹمی ملک ہیں جو بلاسٹک میزائل اور سیکنڈ اسٹرائیک کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ان کے بقول ان دونوں ملکوں کے پاس بات چیت کرنے اور امن کی طرف آنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن موجود ہی نہیں ہے۔ دونوں ملک نو مرتبہ جنگ کر کے یا جنگ جیسی صورتحال پیدا کر کے بھی اپنے مسائل حل نہیں کر سکے ہیں۔‘‘

ان کے بقول روس، چین اور امریکا کے حالیہ دوروں میں بھی مودی کو امن کے رستے پر آنے کے مشورے ملے ہیں: ’’مودی انتخابات میں بھارتی عوام سے کیا گیا بھارت کو ترقی سے ہمکنار کرنے کا اپنا وعدہ اس وقت تک پورا نہیں کر سکیں گے جب تک وہ پاک بھارت امن کے راستے پر نہ آ جائیں۔‘‘

میاں خورشید قصوری پر امید ہیں کہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئے گی لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس میں کافی وقت لگ سکتا ہے، ’’لیڈر اختلافات کو سیاسی مقاصد کے لیے کافی عرصے سے بہت ہوا دیتے رہے ہیں۔ اب رائے عامہ کو امن کی طرف لانے میں کچھ وقت تو لگے گا۔ لیکن ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں پاک بھارت تعلقات کی راہ میں حائل تمام مسائل کے حل کے لیے بہتر پیش رفت ضرور ہو گی۔‘‘

پاکستان کی کئی بڑی سیاسی جماعتوں نے پاک بھارت تعلقات میں بہتری کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے تاہم ان کا ماننا ہے کہ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ہونے والی تمام پیش رفت پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔