1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاک، بھارت مقابلوں کا ایک تاریخی جائزہ

آفریدی اور دھونی کی ٹیمیں بدھ 30 مارچ کو موہالی کے میدان میں کرکٹ کاعالمی کپ حاصل کرنے کی جستجو میں سیمی فائنل کے لیے آمنے سامنے ہوں گی تاہم اس میچ سے قبل ہی دونوں ٹیموں پر دباؤ اور عوامی جوش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

default

سڈنی میں 1992ء میں دونوں ممالک کے درمیان عالمی کپ حاصل کرنے کی خاطر کھیلے گئے پہلے میچ کے بعد سے آج تک ان دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا کرکٹ کے میدان میں جب بھی سامنا کیا ہے، دونوں ملکوں کے عوام کا جوش و جذبہ اور ولولہ اپنی بلندیوں کو چھونے لگتا ہے۔

پاکستان رواں ٹورنامنٹ میں نہایت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ تاہم اس بار پاکستانی ٹیم ،کرکٹ کے گذشتہ چار عالمی کپ مقابلوں میں اپنے روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں شکست کھانےکے بدقسمت سلسلے کو بھی شکست دینے کے لیے پُر عزم ہے۔

Cricket Begeisterung in Bangladesch

جنوبی ایشیا میں کرکٹ کے شائقین کا جوش و خروش عالمی کپ کے دوران شدت اختیار کر جاتا ہے

ایک بھارتی اخبار سے باتیں کرتے ہوئے پاکستانی آل راؤنڈر اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ کھیلے گئےکوارٹر فائنل کے مین آف دی میچ محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موہالی میں کھیلے جانے والے اس میچ کے حوالے سے خاصے پُر عزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف کھیلنا ان کے لیے بہت ولولہ انگیز ہو گا۔ ان کے مطابق بھارتی شائقین کے سامنے کھیلنا ایک دلچسپ تجربہ ہو گا۔

دونوں ممالک کے درمیان30 مارچ کو کھیلا جانے والا یہ میچ 2008ء کو ممبئی میں دہشت گردوں کے حملوں کے بعد سے کھیلا جانے والا تیسرا پاک بھارت ون ڈے میچ ہے۔

Mahendra Singh Dhoni Shahid Afridi Flash-Galerie

موہالی میں آفریدی اور دھونی کی ٹیمیں مقابلے کے لیے تیار ہیں

کرکٹ کے عالمی کپ کے دوران ان دونوں ممالک کے درمیان میچ ہمیشہ سے ہی کئی سنسنی خیز لمحات کو جنم دیتا آیا ہے۔ مثال کے طور پر 1992ء میں پہلی بار عالمی کپ کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے گئے میچ میں اُس وقت کے چوٹی کے پاکستانی بلے باز جاوید میانداد فوٹوگرافروں کی توجہ کا خوب مرکز بنے، جب انہوں نے بار بار اپیلیں کرنے والے بھارتی وکٹ کیپر کرن مور کی نقل میں اوپر نیچھے اچھلنا شروع کر دیا۔

گو کہ سڈنی میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں 43 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم عمران خان کی رہنمائی میں عالمی کپ بالآخر پاکستان کے نام رہا تھا۔

تاہم 1996ء میں بنگلور میں کھیلے جانے والے کوارٹر فائنل میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں 39 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس دن کھیلے جانے والے میچ میں پاکستانی ٹیم کے کپتان اور تیز رفتار گیند کروانے والے بالر وسیم اکرم ان فٹ ہونے کے باعث میچ میں شرکت نہیں کر سکے تھے، جس کی وجہ سے انہیں کرکٹ شائقین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Flash-Galerie Bangladesch Cricket World Cup 2011 Indien Beten in Bombay

بھارت کے ایک مندر میں بھارتی ٹیم کی کامیابی کے لیے پوجا کی جا رہی ہے

اسی طرح 1999ء میں انگلینڈ کے میدان میں دونوں روایتی حریفوں کے درمیان کھیلا گیا کرکٹ ورلڈ کپ کا تیسرا میچ بھی بھارت کے نام رہا تھا۔ اُس وقت پاکستان کو سپر سکس مقابلے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب بھارتی بالر پرساد نے اپنی دھواں دھار بالنگ کی بدولت پاکستان کی پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔ پاکستان کو اس میچ میں 47 رنز سے شکست حاصل ہوئی تھی۔

اسی طرح 2003ء میں جنوبی افریقہ میں سنچورین کے میدان میں کرکٹ کے بھارتی سپر اسٹار سچن ٹنڈولکر اور پاکستان کے تیز رفتار گیند کروانے والے شعیب اختر کے درمیان ہونے والا مقابلہ کون بھول سکتا ہے۔ اس میچ میں ٹنڈولکر ناقابل شکست98 رنز بنا کر شعیب اختر کی گیند کا نشانہ بنے تھے۔ اس میچ میں بھی پاکستان کو چھ وکٹوں سے شکست ہوئی تھی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آئندہ بدھ کو پاکستان گزشتہ چار برسوں سے بھارت کے ہاتھوں ہونے والی شکست کے تسلسل کو توڑنے میں کامیاب ہو سکے گا یا نہیں۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: امجد علی

DW.COM