1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک بھارت مذاکرات کے انعقاد پر شک کے سائے

پاکستان کی طرف سے پاک بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات سے قبل پاکستانی مشیر سرتاج عزیز کی نئی دہلی میں کشمیری رہنماؤں سے ملاقات نہ کرنے کی بھارتی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد یہ مذاکرات خطرے میں دکھائی دیتے ہیں۔

Indien Pakistan Grenze Grenzübergang Wagah Punjab Fahnenzeremonie

واہگہ بارڈر پر پاکستانی اور بھارتی سرحدی گارڈز پرچم اتارنے کی ایک تقریب کے دوران، یہ منظر جولائی 2011ء کا ہے

جمعے کی سہ پہر پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر کو آگا ہ کر دیا ہے کہ پاکستان کے لیے بھارتی تجویز پر عمل کرنا ممکن نہیں۔

بیان کے مطابق بھارت کی جانب سے مذاکرات کے لیے شرائط عائد کرنا اور ایجنڈے کو محدود کرنا بھارت کی پاکستان کے ساتھ معنی خیز بات چیت میں غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ دفترخارجہ کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان غیر مشروط بات چیت کے لیے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات میں شرکت کے لیے تیار ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ کے ترجمان وکاس سروپ نے جمعے کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ پاکستان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اس کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز حریت رہنماؤں سے ملاقات نہ کریں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے یہ بیان جمعے کو پاکستان کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت کی کئی گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات کے اختتام کے بعد کیا گیا۔

وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں بری فوج کے سربراہ راحیل شریف اور قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز کے علاوہ وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت وفاقی کابینہ کے دیگر اراکین شامل ہوئے۔

اس اجلاس کی کارروائی کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اجلاس کا مقصد تئیس اگست کو نئی دہلی میں ہونے والی قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینا تھا۔

وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی کی زیر صدارت پاکستانی دفتر خارجہ میں بھی ایک اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں بھارتی تجاویز پر باضابطہ ردعمل تیار کیا گیا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ پاکستانی قیادت نے اپنے بھارت کے دوروں کے دوران ہمیشہ کشمیری حریت کانفرنس کی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں۔ پاکستان کو ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آ رہی، جس کی وجہ سے وہ ماضی کی اس مشق کو ترک کر دے۔ بیان کے مطابق ’حریت رہنما بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے اصل نمائندے ہیں۔ پاکستان تنازعہٴ کشمیر کے دیر پا حل کے لیے کوششوں میں حریت قیادت کو اصل فریق سمجھتا ہے‘۔

اس بیان کے مطابق پاکستان نے اوفا میں دونوں جانب کی قیادت کے درمیان اتفاقِ رائے سے طے کیے گئے امور کی روشنی میں بھارت کو مذاکرات کے لیے ایک جامع ایجنڈا بھجوایا ہے۔ اس ایجنڈے کے مطابق کشمیر اور دیگر تنازعات سمیت دہشت گردی کے معاملات اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات پر تبادلہٴ خیال کیا جائے گا۔

Sartaj Aziz

پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز 23 اگست کو نئی دہلی میں بھارتی مشیر سلامتی کے ساتھ بات چیت کے ساتھ ساتھ کشمیری رہنماؤں سے بھی ملنا چاہتے ہیں جبکہ بھارت سرتاج عزیز اور کشمیری لیڈیروں کی اس ملاقات کے حق میں نہیں، جس کے بعد ان مذاکرات کا انعقاد خطرے میں دکھائی دیتا ہے

اسی دوران پاکستانی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کےساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہےجبکہ بھارت بات چیت سے انکار کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔ اسلام آباد میں ایک تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’مذاکرات کی گیند اب بھارت کے کورٹ میں ہے، ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن پابندیاں قبول نہیں۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی تجویز پر پاکستان کے ردعمل کے بعد اب بھارت کے جواب کا انتظار کرنا پڑے گا۔ تجزیہ کار اکرم ذکی کے مطابق ’بھارتی رویہ تو یہ بتا رہا ہے کہ جیسے اس نے پاکستانی سلامتی کے مشیر کی کشمیری رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کو انا کا مسئلہ بنا لیا ہے اور وہ اس کی آڑ میں مذاکرات کو التوا میں ڈالنا چاہتا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ پاکستان پر مذکرات کے لیے اپنی مرضی کا ایجنڈا تسلیم کرانے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش ہو‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنا اصولی موقف واضح کر دیا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارت کیسے جواب دیتا ہے۔