1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاک بھارت مذاکرات مستقبل قریب میں؟، ’یہ بھی سمجھداری ہے‘

پاکستان اور بھارت کی جانب سے اتفاق رائے کے ساتھ خارجہ سیکرٹریوں کے مجوزہ مذاکرات ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم ساتھ ہی اس بات پر اتفاقِ رائے کا اعلان بھی کیا گیا ہے کہ یہ مذاکرات مستقبل قریب میں منعقد ہوں گے۔

Pakistan Indischer Ministerpräsident Narendra Modi zu Besuch in Lahore

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اور اُن کے بھارتی ہم منصب نریندرمودی کے درمیان پچیس دسمبر 2015ء کو لاہور میں ہونے والی ملاقات کا ایک منظر

مجوزہ پاک بھارت مذاکرات سے ایک روز قبل یعنی چَودہ جنوری جمعرات کو پہلے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوراپ نے ان مذکرات کے ملتوی کیے جانے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی اپنے ایک مختصر بیان میں کہاکہ ’پاکستان اور بھارت نے خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات کا مستقبل قریب میں انعقاد کرنے پر اتفاق کیا ہے‘۔

اس سے قبل پاکستانی دفتر خارجہ میں صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان مذاکرات کی تاریخ طے کرنے کے لیے دونوں ممالک رابطے میں ہیں۔

DW.COM

ترجمان کا کہنا تھا کہ پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملے کے بارے میں بھارت کی فراہم کردہ معلومات کو اعلیٰ سطح پر اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا:’’دہشت گردی مشترکہ دشمن ہے اور اس کے خاتمے کے لیے پاکستان اور بھارت کی جانب سے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔‘‘

خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان پندرہ جنوری کو اسلام آباد میں مذاکرات ہونا تھے تاہم گزشتہ ہفتے بھارتی فضائیہ کی پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملے کے بعد سے ان مذاکرات کا انعقاد شکوک وشبہات کا شکار ہو گیا تھا۔

بھارت کی جانب سے پاکستان کو اس حملے میں کالعدم شدت پسند تنظیم جیش محمد کے ملوث ہونے کے قابل عمل شواہد مہیا کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس پر پاکستانی حکومت نے مکمل تعاون کا یقین دلایا تھا۔ اس ضمن میں گزشتہ روز پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملے میں پاکستانی عناصر کے ملوث ہونے کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک چھ رکنی ٹیم قائم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کمیٹی میں پولیس، ملٹری انٹیلی جنس اور پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے افسران شامل ہیں۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت اس اجلاس کو بتایا گیا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم جیش محمد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اس کے متعدد کارکنان کو گرفتار جبکہ دفاتر کو سیل کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ ملکی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے ذرائع کے حوالے سے خبریں دی تھیں کہ گرفتار کیے گئے افراد میں کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہراور ان کے بھائی عبدالرؤف اور بہنوئی بھی شامل ہیں۔

تاہم جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ کا کہنا تھا کہ وہ کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لیے جانے کی تصدیق نہیں کر سکتے اور نہ ہی وزیر اعظم ہاؤس کے بیان پر مزید کچھ کہہ سکتے ہیں۔

Indien Angriff auf Luftwaffenstützpunkt in Punjab

بھارتی فضائیہ کی پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملے کے بعد سے پاک بھارت مذاکرات کا انعقاد شکوک وشبہات کا شکار ہو گیا تھا

تجزیہ کاروں کے خیال میں پاکستان اور بھارت دونوں نے اس مرتبہ ماضی کی نسبت سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے۔ سینیئر تجزیہ کار لفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود کا کہنا ہےکہ پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان مذاکرات اگر مقررہ وقت پر منعقد ہو جاتے تو یہ اُن قوتوں کی حوصلہ شکنی ہوتی، جو ان مذاکرات کی مخالف ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا:’’اب بھی کافی دانش مندی کا مظاہرہ ہوا ہے اور یہ پیغام بہرحال ان پاک بھارت اچھے تعلقات کی مخالف قوتوں کو گیا ہے کہ اب صورتحال بدل رہی ہے۔ دونوں ملک نہ صرف دہشت گردی کے خلاف اکٹھے کھڑے نظر آ رہے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھ بھی رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کو نئی دہلی آنے کی اجازت دینا بھی ایک خوش آئند بات ہے۔ طلعت مسعود کا کہنا تھا کہ ’امید کی جانی چاہیے کہ دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں کے ملاقات اس ماہ کے آخر تک ہو جائے گی‘۔